لاہور:لاہور سمیت پنجاب بھر کے سرکاری اسکولوں میں تعلیمی زوال اور تباہ کن نتائج پر محکمہ تعلیم نے بالآخر آہنی ہاتھ کا استعمال کرتے ہوئے سخت ترین کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ نویں جماعت کے سالانہ امتحانات میں بدترین کارکردگی دکھانے والے سرکاری اسکولوں کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق لاہور کے 41 سرکاری اسکولوں میں نویں جماعت کا کامیابی کا تناسب حیرت انگیز طور پر 20 فیصد سے بھی کم ریکارڈ کیا گیا، جس پر محکمہ تعلیم نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ان اسکولوں کے سربراہان اور متعلقہ اساتذہ کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
محکمہ تعلیم کے فراہم کردہ ہولناک اعداد و شمار کے مطابق، گورنمنٹ ہائی اسکول وسن پورہ کا نتیجہ صفر فیصد رہا جہاں نویں جماعت کا ایک بھی طالب علم امتحان پاس کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ اس کے علاوہ لاہور کے مزید 27 سرکاری اسکولوں میں پاس ہونے والے طلبہ کی کل تعداد 10 سے بھی کم نکلی ہے۔ صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پورے پنجاب میں تقریباً 2,200 سرکاری اسکول ایسے ہیں جہاں نویں جماعت کا مجموعی نتیجہ 20 فیصد سے نیچے گرا ہے۔
متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ شوکاز نوٹس کے ذریعے اسکولوں کے سربراہان اور اساتذہ سے طلبا کی اس ناگفتہ بہ کارکردگی اور تعلیمی پستی کی وجوہات پر کڑا جواب طلب کیا جائے گا۔ محکمہ تعلیم کا مقصد سرکاری اسکولوں کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانا، طلبا کے مستقبل کو تباہی سے بچانا اور غفلت کے ذمہ دار عناصر کا کڑے محاسبے کے ساتھ تعین کرنا ہے۔

