ایران کے ساتھ جاری امریکہ کی جنگ کو تقریباً 6 ماہ ہو چکے ہیں۔ اس جنگ نے ایران میں تو تباہی مچائی ہی ہے، امریکہ کو بھی کافی نقصان پہنچایا ہے۔ اب امریکہ کے سامنے اس جنگ کو آگے بڑھانے کے راستے محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ امریکی فوج کے اعلیٰ ترین افسران میں شامل جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے قریبی عہدیداروں سے کہا ہے کہ امریکہ کو جنگ سے باہر نکلنے کا راستہ تلاش کرنا چاہیے۔ ان کا ماننا ہے کہ جنگ کو مزید بڑھانے والے فوجی اقدامات امریکہ کے لیے ہی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ صرف فضائی حملوں کے ذریعہ ٹرمپ کے اہداف حاصل کرنا مشکل ہے۔
جنرل کین نے سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس جیسے سینئر عہدیداروں سے اس معاملے پر بات کی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ٹرمپ کو فوجی کارروائی کے متبادل بتاتے وقت ان کے خطرات اور حدود بھی واضح طور پر بتائے جائیں۔ کین کا ماننا ہے کہ ایران پر صرف بمباری کر کے جنگ ختم کرنا آسان نہیں ہے۔ انہوں نے عوامی سماعت میں بھی کہا تھا کہ فضائی طاقت کی اپنی حدود ہوتی ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ جولائی کے آخر میں امریکہ نے ایران پر مزید بڑے حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ سنٹرل کمانڈ کے کچھ عہدیدار اس کارروائی کے حق میں تھے اور اسرائیل نے بھی اس کی حمایت کی تھی۔ لیکن ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے اتحادی ممالک سے بات کرنے کے بعد فی الحال اس منصوبے کو روک دیا۔ ان ممالک کو خوف تھا کہ ایران جواب میں ان کے تیل اور توانائی کے ٹھکانوں پر حملہ کر سکتا ہے۔ تاہم ٹرمپ نے مستقبل میں اس طرح کے حملے کا متبادل مکمل طور پر ختم نہیں کیا ہے۔

