Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      اینڈرائیڈ صارفین کے لیے بڑی تبدیلی: ”گوگل اسٹنٹ کے 10 سالہ دور کا خاتمہ “ متبادل متعارف کرا دیا گیا!

      اسپورٹس کا مستقبل بھی بدل گیا، روبوٹس کا سنسنی خیز مارشل آرٹس مقابلہ: شکست کے بعد مشین کاجشن، ویڈیو وائرل

      ”اے آئی “ کیسے سیلیبرٹیز کو متاثر کررہی ہے؟ بالی وڈ سینسیشن اداکارہ تبو بھی دہلی ہائیکورٹ پہنچ گئیں

      سپیس ایکس کا راکٹ چاند سے ٹکرا گیا

      ایلون مسک کی اسپیس ایکس کا آوارہ راکٹ چاند سے ٹکرانے کو تیار، 3ٹن TNT کے برابر دھماکے سے 90 فٹ چوڑا گڑھا پڑ جائیگا

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      اصفہان میں دھماکوں کے بعد فضا دھوئیں سے بھر گئی: اسرائیلی فضائی حملے کی پہلی ویڈیو 

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ” دی وائر “ : غزہ جنگ میں بھارت نے اسرائیل کی کیسے مدد کی؟ خفیہ کردار بے نقاب، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    نئی دہلی :بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ کی 42 صفحات پر مشتمل ایک سنسنی خیز تحقیقاتی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے دوران بھارت اسرائیلی فوج کو عسکری سامان اور گولہ بارود فراہم کرنے والا ایک کلیدی سپلائر بن کر ابھرا ہے۔
    بھارتی نیوز آؤٹ لیٹ ” دی وائر “ کی رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے 30 نومبر 2025 کے درمیان بھارت سے اسلحے اور دفاعی سازوسامان کی 2,596 کھیپیں اسرائیل روانہ کی گئیں، جن میں لاکھوں چھوٹے ہتھیاروں کے پرزے، راکٹ انجن، دھماکہ خیز مواد اور عسکری گاڑیوں کے اجزاء شامل ہیں۔ ان میں سرکاری دفاعی کارخانوں کے ساتھ ساتھ نجی کمپنیاں بھی پیش پیش رہیں۔
    مئی 2024 میں ہسپانوی بندرگاہ پر کارٹیجینا کے مزدوروں نے بھارت سے اسرائیل جانے والے اس جہاز کو روک دیا تھا جو 20 ٹن راکٹ انجن اور دھماکہ خیز مواد لے کر جا رہا تھا۔ اس کے باوجود مغربی اور روایتی میڈیا نے اس رپورٹ پر زیادہ تر خاموشی اختیار کی، جبکہ بھارتی وزارتِ خارجہ نے اس تمام تجارت کو بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق قرار دیا ہے۔ ایمنسٹی نے بھارت سے بھیجے گئے 3,90,516 ملٹری گریڈ کے چھوٹے ہتھیاروں کے پرزہ جات کی نشاندہی کی ہے۔ ان میں خودکار ہتھیاروں، ٹرگر کے طریقہ کار، بیرل اور دیگر وہ تمام پرزے شامل ہیں جو خاص طور پر عسکری آتشیں اسلحے کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ کئی نجی کمپنیاں بھی اس صف میں کھڑی ہیں، جن میں ’پریمیئر ایکسپلوسیوز لمیٹڈ‘، ’کلیانی اسٹریٹیجک سسٹمز‘، ’انڈو-ایم آئی ایم‘، ’اشوکا مینوفیکچرنگ‘ اور دیگر شامل ہیں جو آرٹلری کے اجزاء، دھماکہ خیز مواد، باریک بینی سے تیار کردہ انجینئرنگ پروڈکٹس اور دھاتی پرزے بنانے میں مصروف ہیں۔اس رپورٹ کی سب سے نمایاں دریافت یہ ہے کہ اس سپلائی چین میں سرکاری شعبے کے ادارے اور نجی صنعت دونوں یکساں طور پر شامل تھے۔ حکومت کی ملکیت والی ڈیفنس پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگز میں، ایمنسٹی نے ’مینوشنز انڈیا لمیٹڈ‘، ’ایڈوانسڈ ویپنز اینڈ ایکوئپمنٹ انڈیا لمیٹڈ‘، اور ’انڈیا آپٹل لمیٹڈ‘ کو ایسے مینوفیکچررز کے طور پر ظاہر کیا ہے جن کی مصنوعات زیرِ مطالعہ مدت کے دوران اسرائیلی دفاعی سپلائی چین کا حصہ بن گئیں۔
    مبصرین کا ماننا ہے کہ ماضی میں اسرائیل کی جانب سے بھارت کو ملنے والی عسکری مدد کے تناظر میں نئی دہلی نے یہ قدم اٹھایا، لیکن غزہ میں جاری انسانی المیے اور نسل کشی کے دوران اس عسکری سپلائی چین نے بھارت کے اسٹریٹجک کردار کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔
    چھلے دو سالوں کے دوران، رائٹرز، اے پی، بی بی سی، سی این این، دی ٹائمز، اور دی پوسٹ ان تمام اداروں نے امریکی فوجی امداد، برطانوی برآمدی لائسنسوں، جرمن اسلحے کی منظوریوں، اور مغربی ہتھیاروں کی منتقلی کو روکنے کے لیے عدالتوں میں دائر مختلف چیلنجز پر باریک بینی سے رپورٹنگ کی ہے۔ جس کی وجہ سے اسرائیل کو گولہ بارود کی فراہمی روکنے کے لیے یورپ میں رائے عامہ بڑی حد تک ہموار ہو گئی۔
    تاہم، اسی سپلائی چین میں بھارت کے مبینہ کردار سے متعلق ایمنسٹی کی اس تحقیقات پر ان اداروں نے کیوں توجہ نہیں دی، ایک معمہ ہے۔
    ایمنسٹی کی اس رپورٹ میں سب سے زیادہ انکشاف کرنے والے وہ مشترکہ منصوبے ہیں جو بھارت اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے گہرے صنعتی تعلقات کی عکاسی کرتے ہیں۔
    رپورٹ میں ’پی ایل آر سسٹمز‘ کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے جو ’اسرائیل ویپن انڈسٹریز‘ کے ساتھ ایک مشترکہ منصوبہ ہے، اور ’الفائل سیک ڈیفنس اینڈ ایرو اسپیس سسٹمز‘ کا جو ’البٹ سسٹمز‘ کے ساتھ قائم کیا گیا ہے ۔
    ایمنسٹی کی تحقیقات میں جن مصنوعات کی نشاندہی کی گئی ہے، وہ کسی گمنام عالمی منڈی میں منتقل نہیں ہوئی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق، ان میں سے بیشتر مصنوعات اسرائیل کی تین سب سے بڑی دفاعی کمپنیوں کو بھیجی گئیں؛ البٹ سسٹمز، اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز، اور رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز۔
    نیتن یاہو کا یہ تبصرہ کہ بھارت، اسرائیل کے مضبوط ترین حامیوں میں سے ایک ہے، بظاہر ایک سفارتی تعریف ہے، مگر یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ بھارت اسرائیل کی پیداواری لائنوں، برآمدی کھیپوں اور دفاعی سپلائی چین کا حصہ بن چکا ہے۔

    Related Posts

    سونے کی دوسرے روز بھی بڑی چھلانگ

    حالات جس طرف جارہے ہیں کوئی بھی سلامت نہیں رہے گا،اپنا کام آپ نہیں کریں گے تو پھر کوئی نہ کوئی تو کرے گا‘‘ عظمیٰ بخاری

    ”آدیکھیں ذرا کس میں کتنا ہے دم: اب نئے ستارے دمکیں گے“! پہلے ’پاکستان انفلوئنسر ایوارڈز‘ کا آغاز،

    مقبول خبریں

    سونے کی دوسرے روز بھی بڑی چھلانگ

    حالات جس طرف جارہے ہیں کوئی بھی سلامت نہیں رہے گا،اپنا کام آپ نہیں کریں گے تو پھر کوئی نہ کوئی تو کرے گا‘‘ عظمیٰ بخاری

    ”آدیکھیں ذرا کس میں کتنا ہے دم: اب نئے ستارے دمکیں گے“! پہلے ’پاکستان انفلوئنسر ایوارڈز‘ کا آغاز،

    ”انڈین وائرس بیٹا جی تک بھی پہنچ گیا“،دفترِ خارجہ کا شیخ حسینہ کے بیٹے کے آئی ایس آئی سے متعلق الزامات پر کرارا جواب

    ” دی وائر “ : غزہ جنگ میں بھارت نے اسرائیل کی کیسے مدد کی؟ خفیہ کردار بے نقاب، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ

    بلاگ

    بیٹی کی ہاتھ میں قرآن اٹھاکرتحفظ کی فریاد،قانون حرکت میں نہ آیا،باپ قتل

    ”اعلیٰ افسران سے کانسٹیبل تک ڈرگ ٹیسٹ کا مطالبہ“

    ”غازی آباد سے اٹھی چنگاری، کیا پنجاب پولیس میں احتساب کا طوفان آئے گا ؟“

    گاذر قبیلے کا فخر حافظ محمد رفیق گاذر شہید وطن پر قربان

     شانگلہ… جہاں پہاڑ آج بھی سرسبز مگر ہر گھر ماتم کدہ بن چکا

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.