قاضی احمد رپورٹ سائين بخش لاکھو
: پاکستان پیپلز پارٹی تعلقہ قاضی احمد کی جانب سے 24 جولائی کو "مرسوں مرسوں، سندھ نہ دیں سوں” کے عنوان سے نکالی جانے والی بڑی ریلی کی تیاریوں کے سلسلے میں تعلقہ آفس میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس کی صدارت تعلقہ صدر خالد آرائیں اور جنرل سیکریٹری علی رضا چانڈیو نے کی، جبکہ تعلقہ کے عہدیداروں، منتخب نمائندوں اور پارٹی کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اجلاس میں 24 جولائی کو ہونے والی ریلی کے انتظامات، کارکنوں کی بھرپور شرکت اور پروگرام کو کامیاب بنانے کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی گئی۔سس موقع پر خطاب کرتے ہوئے تعلقہ صدر خالد آرائیں نے کہا کہ 24 جولائی کو تعلقہ قاضی احمد سے ایک بڑی ریلی نکالی جائے گی، جس میں پارٹی کارکن بھرپور انداز میں شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت کی ہدایات کے مطابق پہلے ضلعی سطح پر کامیاب ریلی منعقد کی جا چکی ہے، جبکہ اب تعلقہ سطح پر بھی بھرپور طریقے سے ریلی کا انعقاد کیا جائے گا اور پارٹی کے دیے گئے پروگرام پر مکمل عمل کیا جائے گا۔اجلاس میں یاسین لاشاری، میر عمران جمالی، رئیس ذوالفقار راہو، شہمیر بگھیو، سیکریٹری ریکارڈ اینڈ ایونٹس مرتضیٰ شاہانی، انجینئر غفار جتوئی، نرگس ٹانوری، شمس الدین جسکانی، ربنواز عمرانی، وحید چانڈیو، سردار اعجاز احمد لاکو، کونسلر الطاف بالاڈی، ڈاکٹر قربان لاشاری، وائس چیئرمین دریاء خان جوکھیو، اللہ ڈتو کھوسو سمیت دیگر پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران یہ بھی دیکھا گیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب کئی یوسی چیئرمین، وائس چیئرمین، وارڈ ممبران اور ضلع کونسل کے ارکان اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔اس موقع پر پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں نے بعض یوسی چیئرمینوں کے بارے میں شکایات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی کارکنوں کو نظرانداز کر رہے ہیں اور ہر ماہ ملنے والے ترقیاتی فنڈز سے کارکنوں کو نلکے، سولر پلیٹیں یا دیگر سہولیات فراہم کرنے پر آمادہ نہیں، جس کے باعث کارکنوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔

