لاہور / پشاور: پنجاب اور خیبرپختونخوا میں موسلا دھار مون سون بارشوں، تیز آندھی اور فلش فلڈ نے شدید تباہی مچا دی ہے۔ چھتیں اور دیواریں گرنے، کرنٹ لگنے، پانی میں ڈوبنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے مختلف دلخراش حادثات میں مجموعی طور پر 22 افراد جاں بحق جبکہ 56 سے زائد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ متاثرہ اضلاع میں انتظامیہ اور ریسکیو ادارے ہائی الرٹ پر ہیں جبکہ امدادی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں۔
پنجاب میں بارشوں کا قہر؛ گوجرانوالہ اور پاکپتن میں سب زیادہ جانی نقصان
پنجاب ریسکیو 1122 کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے بھر میں طوفانی بارشوں کے باعث دیواریں اور چھتیں گرنے کے مختلف حادسات میں 8 افراد لقمہ اجل بنے جبکہ 37 افراد زخمی ہوئے۔ صرف گوجرانوالہ میں چھتیں اور دیواریں گرنے کے 8 افسوسناک واقعات میں 3 افراد جاں بحق اور 14 زخمی ہوئے، جبکہ کرنٹ لگنے اور بارش کے پانی سے جڑے حادثات میں ایک اور شخص جان کی بازی ہار گیا اور کامونکی کے انڈر پاس میں جمع پانی میں ڈوب کر ایک معصوم بچہ بھی جاں بحق ہو گیا۔
علاوہ ازیں، پاکپتن میں کچے مکان کی چھت گرنے سے 2 افراد ہلاک جبکہ ساہیوال کے علاقے کوٹ خادم علی شاہ میں ایک خاتون ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو گئی۔ ہڑپہ، لاہور (بند روڈ)، منڈی بہاؤالدین، بہاولنگر اور سیالکوٹ میں بھی چھتیں اور شیڈ گرنے سے متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ مری اور کہوٹہ میں لینڈ سلائیڈنگ اور درخت گرنے کے واقعات بھی پیش آئے۔
خیبرپختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے 14 افراد جاں بحق
دوسری جانب پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا کی رپورٹ کے مطابق 19 جولائی سے جاری تیز بارشوں اور اچانک آنے والے سیلاب (فلش فلڈ) کے نتیجے میں صوبے بھر میں 14 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 19 افراد زخمی ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 6 مرد، 6 بچے اور 2 خواتین شامل ہیں۔ ان موسمی آفات کی وجہ سے پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال، دیر، ایبٹ آباد، مانسہرہ اور شمالی وزیرستان سمیت مختلف اضلاع میں کل 28 مکانات کو نقصان پہنچا، جن میں 6 گھر مکمل تباہ جبکہ 22 کو جزوی نقصان پہنچا۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے ہنگامی ہدایات اور عوام کے لیے الرٹ
پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ صوبے کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح فی الحال نارمل ہے، تاہم 23 جولائی تک وقفے وقفے سے مزید تیز بارشوں کی پیشگوئی کے پیش نظر تمام ضلعی انتظامیہ کو پہلے ہی الرٹ جاری کیا جا چکا ہے۔ اداروں نے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی فراہمی اور کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
متعلقہ اداروں نے عوام سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، طوفانی صورتحال میں پہاڑی اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ کرنے سے باز رہیں، اور حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات اور ایڈوائزری پر سختی سے عمل کریں۔

