تہران/واشنگٹن:ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے انکشاف کیا ہے کہ مذاکرات کے دوران جب امریکیوں کی جانب سے انہیں دھمکیاں دی گئیں تو انہوں نے ہلکا سا تبسم کر کے امریکی نمائندے اسٹیو ویٹکوف کو آئینہ دکھا دیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق عباس عراقچی نے بتایا کہ انہوں نے اسٹیو ویٹکوف سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا، "کیا تم کسی ایسے جلسے میں گئے ہو جہاں ہر وقت بمباری کا خدشہ ہو کہ کب دشمن مذاکرات کی میز کو اڑا دے؟ کیا تم ہر میٹنگ سے پہلے اپنی فیملی کو کال کر کے خدا حافظ کرتے ہو اور کہتے ہو کہ شاید یہ آخری بار گفتگو ہے، کہا سنا معاف کر دینا؟”
ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ وہ اور ان کی ٹیم ایسے ہی انتہائی دباؤ اور جنگی حالات میں مذاکرات کر رہے ہیں۔ انہوں نے امریکی فریق کو دوٹوک الفاظ میں خبردار کیا کہ وہ تہران کو دھمکیاں دینے سے گریز کریں کیونکہ وہ ان دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔ عباس عراقچی نے عزم ظاہر کیا کہ ایران کسی بھی صورت اپنے عوام کے حقوق سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

