Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      فیفا ورلڈ کپ 2026: اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر ویورز کا نیا ریکارڈ،نیٹ فلکس، ڈزنی اور یوٹیوب کے درمیان 2030 ورلڈ کپ کے حقوق کی جنگ تیز

      میٹھی خوشخبری: ڈارک چاکلیٹ دل کی بیماریوں، ہائی بلڈ پریشر اور فالج کے خلاف بہترین ڈھال قرار

      کروڑ پتی کلب: ہنڈا اور ٹویوٹا کی ہائبرڈ گاڑیاں خریدنا اب عام آدمی کے بس سے باہر

      ہالی ووڈ اور صارفین کا احتجاج رنگ لے آیا: میٹا نے انسٹاگرام سے جڑا AI فیچر واپس لے لیا

      عالمی بینک کی پاکستان کے لیے 37 کروڑ،59 لاکھ ڈالر قرض کی منظوری

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      اصفہان میں دھماکوں کے بعد فضا دھوئیں سے بھر گئی: اسرائیلی فضائی حملے کی پہلی ویڈیو 

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    مصر کے شہر الاقصر میں فرعونوں کے عہد کا مقبرہ دریافت، نئی سلطنت کے دور سے تعلق کا امکان

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    مصر کے شہر الاقصر میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے فرعونوں کے عہد کا مقبرہ دریافت کیا ہے۔ ابتدائی تحقیق کے مطابق اس کا تعلق نئی سلطنت کے دور سے ہے، جبکہ اس کی تاریخی اہمیت کے لیے مزید سائنسی مطالعہ درکار ہے

    قاہرہ: مصر کی وزارتِ سیاحت و نوادرات نے اعلان کیا ہے کہ تاریخی شہر الاقصر کے مغربی کنارے پر جاری کھدائی کے دوران فرعونوں کے عہد کا ایک قدیم مقبرہ دریافت ہوا ہے۔ ابتدائی تحقیق کے مطابق اس کا تعلق قدیم مصر کی نئی سلطنت کے دور سے ہے، جو تقریباً 1550 قبل مسیح سے 1069 قبل مسیح تک قائم رہی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت قدیم مصری تہذیب، مذہبی روایات اور تدفینی طریقوں کے بارے میں نئی معلومات فراہم کر سکتی ہے۔

    وزارت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ دریافت الاقصر کے مغربی قبرستان میں کام کرنے والے نیدرلینڈ کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے ایک تحقیقی مشن نے کی۔ مقبرے کی دیواروں پر موجود کتبوں اور نقوش سے معلوم ہوا ہے کہ اس کا مالک ’پاسیر‘ نامی شخصیت تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فنِ تعمیر، دیواروں کی آرائش اور کندہ نقوش سے بھی یہی اشارہ ملتا ہے کہ یہ مقبرہ نئی سلطنت کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔

    مصر کی اعلیٰ کونسل برائے نوادرات کے سیکریٹری جنرل ہشام اللیثی نے بتایا کہ تحقیقی ٹیم اب اس مقام کا تفصیلی سائنسی جائزہ، دستاویزی اندراج اور آثار کا باریک بینی سے مطالعہ کرے گی تاکہ یہاں مدفون افراد کی شناخت، ان کے سماجی مقام اور تاریخی پس منظر کو واضح کیا جا سکے۔ ان کے مطابق اس تحقیق سے قدیم مصر کی تاریخ کے کئی نئے پہلو سامنے آنے کی توقع ہے۔

    اعلیٰ کونسل کے شعبۂ مصری نوادرات کے سربراہ محمد عبدالبادی نے بتایا کہ مقبرے کی ساخت نئی سلطنت کے دور کے نجی مقبروں کی روایتی طرزِ تعمیر کی عکاسی کرتی ہے۔ اس میں ایک کشادہ بیرونی صحن، چٹان کو تراش کر بنایا گیا الٹے ’ٹی‘ کی شکل کا عبادت گاہ نما حصہ اور کئی زیرِ زمین تدفینی کمرے شامل ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ بیرونی صحن اچھی حالت میں محفوظ ہے۔ یہاں کچی اینٹوں سے تعمیر کیا گیا ایک تدفینی چبوترہ موجود ہے، جس کے وسط میں یادگاری سنگِ کتبہ نصب کرنے کے لیے مخصوص جگہ بنائی گئی تھی۔ صحن سے مرکزی داخلی راستے تک پہنچنے کے لیے سیڑھیاں اور ان کے دونوں جانب ڈھلوانی راستے بھی بنائے گئے تھے، جو اس دور کے فنِ تعمیر کی نمایاں خصوصیات میں شمار ہوتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق مقبرے کی دیواروں پر خوبصورت رنگین نقاشی اور کندہ تحریریں موجود ہیں، اگرچہ ان کا کچھ حصہ ابھی گرد و غبار اور مٹی کی باریک تہہ میں ڈھکا ہوا ہے۔ جن حصوں کی صفائی مکمل ہو چکی ہے وہاں واضح تصویری مناظر سامنے آئے ہیں۔ ان میں ’پاسیر‘ کو مختلف معبودوں میں نذرانے پیش کرتے ہوئے اور اپنی اہلیہ کے ساتھ روایتی نذر و نیاز کی میز کے سامنے کھڑے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مناظر اس دور کے مذہبی عقائد، خاندانی زندگی اور تدفینی رسومات کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

    وزارتِ سیاحت و نوادرات نے یاد دلایا کہ رواں برس اپریل میں بھی ہسپانوی ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے صوبہ منیا میں رومی اور یونانی عہد سے تعلق رکھنے والا ایک نادر مقبرہ دریافت کیا تھا۔ وہاں سے متعدد حنوط شدہ لاشیں، لکڑی کے تابوت، سونے اور تانبے سے بنی مصنوعی زبانیں اور سونے کی پرت سے مزین آثار برآمد ہوئے تھے، جنہوں نے اس زمانے کی تدفینی روایات کے بارے میں نئی معلومات فراہم کی تھیں۔

    Related Posts

    فیفا عالمی کپ: سیمی فائنل میں ایمباپے اور یامال کی فیصلہ کن ٹکر، کس کے سر سجے گا تاج؟

    بنکاک،پب میں آتشزدگی،27 افراد ہلاک، درجنوں زخمی

    کانگو میں ایبولا کا پھیلاؤ: دو نئے صوبوں تک پہنچی وبا، متاثرین اور اموات میں اضافہ

    مقبول خبریں

    فیفا عالمی کپ: سیمی فائنل میں ایمباپے اور یامال کی فیصلہ کن ٹکر، کس کے سر سجے گا تاج؟

    بنکاک،پب میں آتشزدگی،27 افراد ہلاک، درجنوں زخمی

    کانگو میں ایبولا کا پھیلاؤ: دو نئے صوبوں تک پہنچی وبا، متاثرین اور اموات میں اضافہ

    مصر کے شہر الاقصر میں فرعونوں کے عہد کا مقبرہ دریافت، نئی سلطنت کے دور سے تعلق کا امکان

    سونے اور چاندی کی قیمت کم ہو گئی

    بلاگ

    بلوچستان کو تباہ و برباد کرنے کے لیے کئی شر پسند عناصرملوث اورمتحرک

    آخر مچھر مجھے ہی زیادہ کیوں کاٹتے ہیں؟اس کے پیچھے چھپی دلچسپ سائنس

    "تاریخ کا پہلا اور آخری جنازہ… جس میں شریک ہونے کے لیے انگریز سرکار نے ‘ٹیکس’ لگا دیا تھا!”

    گلو شاہ میلہ: تاریخ، اہمیت اور موجودہ صورتِ حال

    تاج پورہ، لکشمی چوک اور پانی والا تالاب ہمیشہ لاہور کی بارش کی سرخیوں میں کیوں سرفہرست رہتے ہیں؟

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.