ہنگورجہ: رپورٹ فیاض محسن سولنگی
بیوہ کا ہنگورجہ پولیس اور دیور کے خلاف احتجاج، بے گناہ بیٹوں کو قتل کیس میں پھنسانے، گھر کا سامان اور مویشی لے جانے کے الزامات؛ اعلیٰ حکام سے انصاف کی اپیل ہنگورجہ کے نواحی گاؤں سائیں داد سولنگی کی رہائشی بیوہ خاتون قائمان خاتون اپنی بیٹی نثار خاتون کے ہمراہ سٹی پریس کلب ہنگورجہ پہنچیں، جہاں انہوں نے احتجاج کرتے ہوئے صحافیوں سے گفتگو میں الزام عائد کیا کہ ان کے دیور عثمان سولنگی نے مبینہ طور پر ہنگورجہ پولیس کے ساتھ مل کر ان کے ساتھ زیادتیاں کی ہیں۔قائمان خاتون کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر کے المناک قتل کے بعد بھی انہیں سکون سے جینے نہیں دیا جا رہا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے دیور نے پولیس کے ہمراہ ان کے گھر پر چڑھائی کی، جہاں موجود مویشی، جن میں بھینسیں اور بکریاں شامل تھیں، اور گھر کا قیمتی سامان زبردستی پولیس کی گاڑیوں میں ڈال کر لے جایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک بیوہ خاتون کے ساتھ ایسا سلوک کھلی ناانصافی ہے۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ ان کے دیور عثمان سولنگی ذاتی مفادات کی خاطر ان کے دیگر بیٹوں کو بھی ان کے شوہر کے قتل کے مقدمے میں بے گناہ ہونے کے باوجود ملوث کر رہے ہیں تاکہ زرعی زمین، گھر اور دیگر جائیداد پر قبضہ کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے پانچ بیٹے ہیں، جن میں سے ایک ذہنی معذور (درویش) ہے، جبکہ باقی بیٹوں کو بھی بغیر کسی ثبوت کے مقدمے میں نامزد کیا جا رہا ہے۔قائمان خاتون نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کے شوہر، ریٹائرڈ فوجی واحد بخش عرف صدیق سولنگی، کو ان کے نافرمان بیٹے ایاز سولنگی نے قتل کیا۔ ان کے مطابق واقعے کی رات زمین کے معمولی تنازع پر ایاز سولنگی مشتعل ہو گیا اور مبینہ طور پر لوہے کے چنجور کے وار کر کے اپنے والد کو موقع پر قتل کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل قاتل صرف ایاز ہے، جبکہ دیگر بے گناہ بیٹوں کو ذاتی دشمنی اور مفادات کی بنیاد پر مقدمے میں شامل کیا گیا ہے۔احتجاج کرنے والی خاتون نے کہا کہ اگر ہنگورجہ پولیس اور متعلقہ حکام نے انصاف فراہم نہ کیا تو وہ سکھر ہائی کورٹ بینچ میں سینئر قانون دان ایڈووکیٹ ایاز حسین سولنگی کے ذریعے ہنگورجہ پولیس، ایس ایچ او اور عثمان سولنگی کے خلاف قانونی درخواست دائر کریں گی۔
آخر میں قائمان خاتون نے بلاول بھٹو زرداری، آئی جی سندھ اور ایس ایس پی خیرپور سے اپیل کی کہ واقعے کی اعلیٰ سطحی، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، اصل ملزم کو قانون کے مطابق سزا دی جائے، بے گناہ افراد کو قتل مقدمے سے بری کیا جائے، مبینہ طور پر لے جائے گئے مویشی، گھر کا سامان اور دیگر ملکیت واپس دلائی جائے، اور انہیں تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔

