تہران:بنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ دریں اثنا، امریکا نے ایک بار پھر ایران پر فضائی بمباری کی ہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں اس کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ "ایران نے غلط فیصلہ کیا، اور اب وہ اس کی قیمت چکائے گا۔”وہیں ایران نے جواب میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کا اعلان کرنے کے ساتھ خلیجی ممالک میں امریکی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف نئے حملوں کا ایک سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
🚨🇺🇸 BREAKING: CENTCOM just released the strike footage: carrier launches, Tomahawks, and Iranian targets erupting one after another.
-The published video shows an F/A-18F Super Hornet and F-35C stealth fighter launching from a carrier, plus Tomahawk cruise missiles firing from… pic.twitter.com/me9f3strRs
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) July 12, 2026
یہ اعلان سنیچر کو اس وقت کیا گیا جب پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے قبرص کے جھنڈے والے مال بردار جہاز ایم وی جی ایف ایس گیلکسی پر حملہ کیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’شہری عملے کا ایک رکن لاپتہ ہے اور جہاز پر لگنے والی آگ اور انجن روم کو پہنچنے والے شدید نقصان کی وجہ سے یہ جہاز اپنا سفر جاری رکھنے کے قابل نہیں رہا۔‘امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ یہ حملے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر کیے گئے۔امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے تیسرے اور اب تک کے سب سے شدید مرحلے کی تکمیل کا اعلان کر دیا ہے۔ صرف ایک رات میں 140 ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس ہفتے کے دوران تباہ کیے گئے اہداف کی کل تعداد 300 سے تجاوز کر گئی ہے۔
حملوں کی تفصیلات:
امریکی افواج نے زمینی اور بحری ذرائع، ڈرونز اور لڑاکا طیاروں کے ذریعے انتہائی درستگی کے ساتھ ایرانی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ جن اہم تنصیبات کو تباہ کیا گیا ان میں شامل ہیں:
مزائل اور ڈرون لانچنگ سائٹس
بحری جنگی صلاحیتوں کے مراکز
اسلحہ اور گولہ بارود کے گودام
مواصلاتی نیٹ ورکس اور ساحلی نگرانی کا نظام
سینٹ کام نے واضح کیا ہے کہ مئی کے آغاز سے اب تک وہ 800 سے زائد تجارتی جہازوں اور 400 ملین بیرل تیل کو بحفاظت آبنائے ہرمز سے گزار چکے ہیں، اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
ایران نے اس سے قبل کہا تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے کیونکہ اس نے آبنائے میں ایک ایسے جہاز کو نشانہ بنانے کا اعتراف کیا تھا جو ’غیر مجاز راستے‘ کا استعمال کر رہا تھا۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا کہنا تھا کہ متعدد جہازوں نے ’ہمارے انتباہ اور اپنے راستے کی تصحیح کر کے منظور شدہ راستے پر آگے بڑھنے کی ہدایات کو نظر انداز کیا۔‘
ان میں سے ایک جہاز کو ’انتباہی فائر کا نشانہ بنایا گیا اور اسے روک دیا گیا۔‘
ایران نے موقف اختیار کیا کہ یہ آبنائے ’اگلے نوٹس تک‘ بند رہے گی اور واضح کیا کہ اگر اسے مزید حملوں کا سامنا کرنا پڑا تو وہ ’خطے میں دشمن کے مزید اڈوں‘ کو نشانہ بنانے پر غور کرے گا۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنی ایکس پوسٹ میں کہا کہ تجارتی جہازوں پر سابقہ حملوں کے لیے جوابدہ ٹھہرائے جانے کے بعد ایران کو مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد ظاہر کرنے کا ایک اور موقع دیا گیا تھا لیکن وہ ’ایک بار پھر ناکام رہا۔‘
سینٹکام کے مطابق ’جواب میں، امریکا ایران کی جانب سے شہری ملاحوں اور آبنائے سے آزادانہ گزرنے والے تجارتی جہازوں پر حملے کرنے کی صلاحیت کو مسلسل کمزور کر کے ایک بھاری قیمت عائد کر رہا ہے۔‘
امریکی فوج کے اس اعلان کے بعد ایرانی میڈیا نے آبنائے ہرمز کے قریب ملک کے ساحلی علاقوں میں دھماکوں کی رپورٹیں دینا شروع کر دیں۔
سرکاری ٹی وی نے اطلاع دی کہ ’بندر عباس میں تین اور سیریک میں دو دھماکے سنے گئے۔‘ جبکہ مہر نیوز ایجنسی کا کہنا تھا کہ جزیرہ قشم میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ دیگر میڈیا ہاؤسز نے صوبہ بوشہر، دیر، عسلویہ اور جاسک شہر میں بھی متعدد دھماکوں کی اطلاع دی۔
امریکا کی جانب سے نئے حملوں کے اعلان کے ساتھ ہی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ ایران کو اپنی ہٹ دھرمی کی قیمت چکانا پڑے گی۔
انہوں نے لکھا’ایران نے ایک غلط انتخاب کیا۔ اب وہ اس کی قیمت چکا رہے ہیں۔‘
وہیں ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک میں امریکی اہداف پر حملے شروع کر دیے ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے اتوار کو عوام کو آنے والے میزائل اور ڈرون حملے سے خبردار کیا۔ اسی بیچ ایک اور خلیجی ملک قطر میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ متحدہ عرب امارات میں کہاں حملہ کیا گیا، جسے اب تک ایران کے حملوں کے تازہ ترین دور میں نشانہ نہیں بنایا گیا تھا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے ایک صحافی نے اتوار کی صبح قطر میں دھماکوں کی آواز سنی۔ تاحال ان حملوں کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ واضح رہے کہ امریکا نے گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے ایران پر فضائی حملوں کے دو دور میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا۔
پاسداران انقلاب سے وابستہ فارس نیوز ایجنسی نے ایک ویڈیو شائع کی جس میں ایرانی ڈرون کویت میں امریکی فوجی مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس میں پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹم، گولہ بارود کا ایک ڈپو اور ایک ریڈار سہولت شامل ہے۔
🔴 موج حملات پهپادی ارتش به پایگاههای آمریکا در منطقه
ارتش: در پاسخ به ادامه تجاوزات آمریکا به مناطقی از جنوب کشور، ارتش جمهوری اسلامی ایران، از ساعاتی قبل، با پهپادهای انهدامی خود، سامانه پاتریوت، انبار مهمات و سایت رادار ارتش تروریستی آمریکا در کویت را هدف حملات قرار داد. https://t.co/UHfInRnem6 pic.twitter.com/3KZ3Db1OAj
— خبرگزاری فارس (@FarsNews_Agency) July 12, 2026
دوسری جانب کویت کی مسلح ا فواج نے اتوار کو کہا ہے کہ فورسز ملک کی فضائی حدود کے اندر دشمن کے فضائی اہداف کو نشانہ بنا رہی ہیں۔
فوج نے X پر ایک پوسٹ میں عوام سے سرکاری حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ "دھماکوں کی کوئی بھی آواز، اگر سنی جاتی ہے، ہوائی دفاعی نظام کے دشمن حملوں کو روکنے کا نتیجہ ہے۔”
تتصدى حالياً القوات المسلحة لأهداف جوية معادية داخل المجال الجوي الكويتي.
تنوه رئاسة الأركان العامة للجيش أن أصوات الانفجارات إن سمعت فهي نتيجة اعتراض منظومات الدفاع الجوي للهجمات المعادية.
يرجى من الجميع التقيد بتعليمات الأمن والسلامة الصادرة عن الجهات المختصة.#الجيش_الكويتي pic.twitter.com/p5o4B3Q1cG
— KUWAIT ARMY – الجيش الكويتي (@KuwaitArmyGHQ) July 12, 2026

