واشنگٹن/مسقط: مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ فوری طور پر عوامی سطح پر تسلیم کرے کہ آبنائے ہرمز ایک کھلی اور فری ٹول (ٹول فری) گزرگاہ ہے،کئے گئے حملوں کی مذمت کرے اور تجارتی جہازوں پر حملے بند کرے۔ امریکی حکام کے مطابق، اگر ایران نے ہفتے کے روز ہونے والے مذاکرات کے بعد اپنی پوزیشن واضح نہ کی تو اسے "سخت نتائج” کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ رواں ہفتے جھڑپوں کے بعد ایرانی حکام نے نجی رابطوں میں اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ "ہم سے غلطی ہوئی، ہمیں مذاکرات جاری رکھنے چاہییں۔” تاہم، ایران کے سرکاری ترجمان اسماعیل بقائی نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے صرف قطری ثالثوں کی درخواست پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
ایگزیوس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عمانی وزیر خارجہ سید بدر البوسعیدی کے درمیان ہفتے کے روز مسقط میں ہونے والی ملاقات کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس ملاقات کا مرکز آبنائے ہرمز کی صورتحال اور بحری سیکیورٹی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے اس بیان کے منتظر ہیں جس میں وہ جہازوں پر حملے بند کرنے کا عہد کرے۔
کیا جوہری معاہدہ خطرے میں ہے؟
ایگزیوس کی خصوصی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام کو تشویش ہے کہ کیا ایران، جس نے ایک تین ہفتے پرانا مفاہمت کا معاہدہ (MOU) توڑ کر جہازوں پر گولہ باری کی، وہ کسی بڑے اور پیچیدہ جوہری معاہدے پر عمل کرنے کے قابل بھی ہے؟ ایک امریکی عہدیدار نے خبردار کیا کہ صدر ٹرمپ نے مذاکرات کاروں کو وقت اور موقع دیا ہے، لیکن "یہ موقع محدود ہے”۔ اگر جوہری معاہدہ نہ ہو سکا تو امریکا کے پاس متبادل منصوبے تیار ہیں۔
امریکی حکام کا یہ بھی ماننا ہے کہ ایرانی حکومت کے اندر ایک طاقت کی کشمکش جاری ہے۔ ایک طرف وہ عناصر ہیں جو امریکا کے ساتھ ڈیل کرنا چاہتے ہیں، جبکہ دوسری طرف سخت گیر قوتیں ہیں جو مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے لیے اشتعال انگیزی کر رہی ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ اب یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ آیا ایرانی قیادت اپنے اندرونی عناصر کو کنٹرول کر پاتی ہے یا نہیں۔
"ہم سے غلطی ہوئی”:ایران امریکا کی آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے آخری وارننگ، سب نگاہیں مسقط پر، پسِ پردہ کہانی منظرِ عام پر، ایگزیوس

