رام مندر چندہ تنازعہ پر ملک گیر مہم کے تحت کانگریس نے بی جے پی اور آر ایس ایس پر تنقید کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی نگرانی میں سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور وزیر اعظم مودی کی خاموشی پر سوال اٹھائے
کانگریس نے رام مندر چندہ تنازعہ کو لے کر بی جے پی اور آر ایس ایس کے خلاف اپنی سیاسی مہم تیز کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی نگرانی میں سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی نے جمعہ کے روز ملک کے مختلف شہروں میں پریس کانفرنسوں کا سلسلہ شروع کیا اور الزام عائد کیا کہ رام مندر میں چندے اور نذرانوں سے متعلق سامنے آنے والے مبینہ معاملات نہ صرف مالی بے ضابطگیوں کا مسئلہ ہیں بلکہ کروڑوں ہندوؤں کے مذہبی جذبات اور عقیدت پر بھی سنگین ضرب ہیں۔ کانگریس نے اعلان کیا کہ یہ ملک گیر عوامی بیداری مہم بارہ جولائی تک جاری رہے گی، جس کے دوران پچاس سے زائد شہروں میں پریس کانفرنسیں منعقد کر کے بی جے پی اور آر ایس ایس سے جواب طلب کیا جائے گا۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ ایودھیا میں رام مندر سے متعلق سامنے آنے والے معاملات انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مندر سے متعلق چندے، زمین کی خریداری اور تعمیراتی امور میں جن بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں، ان پر حکومت اور متعلقہ افراد کو جواب دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے اور ملک اس معاملے میں ان سے واضح مؤقف کا مطالبہ کر رہا ہے۔ جے رام رمیش نے بتایا کہ پارٹی کی جانب سے ایک ہی دن میں مختلف ریاستوں میں متعدد پریس کانفرنسیں کی گئیں اور آئندہ چند روز میں اس مہم کو مزید وسعت دی جائے گی۔
چنڈی گڑھ میں کانگریس کی قومی ترجمان سپریا شرینیت نے پنجاب کانگریس کے صدر امریندر سنگھ راجا وڈنگ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھگوان رام صرف ہندو برادری ہی نہیں بلکہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں اور مہاتما گاندھی جیسی شخصیات کے لیے بھی اعلیٰ اخلاقی اقدار کی علامت رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ رام مندر میں چندے سے متعلق سامنے آنے والے مبینہ معاملات اخلاقی اعتبار سے نہایت سنگین ہیں اور اس کی سیاسی و انتظامی ذمہ داری بی جے پی اور آر ایس ایس پر عائد ہوتی ہے کیونکہ ٹرسٹ کے انتظام سے وابستہ کئی افراد ان سے قریبی تعلق رکھتے ہیں۔
سپریا شرینیت نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے رام مندر کے سنگ بنیاد، افتتاح اور پران پرتشٹھا کی تقریبات میں نمایاں کردار ادا کیا تھا، اس لیے اب اگر بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آ رہے ہیں تو ان کی خاموشی عوام کے لیے باعث حیرت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ رام جنم بھومی تیرتھ شیترا ٹرسٹ کو اطلاعات کے حق کے قانون کے دائرے سے باہر رکھا گیا، جس سے شفافیت کے حوالے سے کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق چالیس دنوں کے دوران مندر کے نذرانوں میں ستر مرتبہ مبینہ چوری کے واقعات پیش آئے، جس کے باعث عوام کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے بی جے پی اور آر ایس ایس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی عقیدت کے نام پر عوام کے اعتماد کو مجروح کیا گیا ہے۔
چنڈی گڑھ ہی میں ایک دوسری پریس کانفرنس کے دوران شکتی سنگھ گوہل نے دعویٰ کیا کہ مبینہ بے ضابطگیوں کے انکشاف سے پہلے روزانہ سولہ سے اٹھارہ لاکھ روپے بطور چندہ جمع ہوتے تھے، لیکن معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد یہ رقم چوبیس سے چھبیس لاکھ روپے روزانہ تک پہنچ گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فرق سے اندازہ ہوتا ہے کہ روزانہ تقریباً دس لاکھ روپے کی مبینہ بے ضابطگی ہوتی رہی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ رام مندر ٹرسٹ کو تحلیل کر کے نیا ٹرسٹ تشکیل دیا جائے، چمپت رائے کو گرفتار کیا جائے اور پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں سی بی آئی سے تحقیقات کرائی جائیں۔
کانپور میں اتر پردیش کانگریس کے رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے رکن پارلیمان پپو یادو نے کہا کہ جو لوگ بھگوان رام کے نام پر سیاست کرتے ہیں، انہیں یہ بتانا چاہیے کہ ملک کے بڑے مندروں اور مذہبی ٹرسٹوں پر بی جے پی، آر ایس ایس اور کارپوریٹ حلقوں کا غلبہ کیوں ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر رام مندر ٹرسٹ کی تشکیل وزیر اعظم نریندر مودی کی نگرانی میں ہوئی تھی تو پھر موجودہ تنازعے کی ذمہ داری کون قبول کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ اگر سب کچھ درست تھا تو چمپت رائے اور انل مشرا نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ کیوں دیا اور اگر پورا ٹرسٹ زیر سوال ہے تو کارروائی صرف نچلے درجے کے ملازمین تک ہی کیوں محدود رکھی گئی۔
مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں کانگریس کے ریاستی انچارج ہریش چودھری نے کہا کہ سناتن روایت کے مطابق کسی بھی مندر کے سنگ بنیاد اور پران پرتشتھا کی تقریبات میں سادھو سنتوں کو مرکزی حیثیت دی جاتی ہے، لیکن بی جے پی نے سیاسی مفادات کے لیے اس روایت کو نظر انداز کیا۔ ان کے مطابق جب اب رام مندر سے متعلق اتنا بڑا تنازعہ سامنے آیا ہے تو وزیر اعظم نریندر مودی اپنی ذمہ داری سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پورے معاملے کی عدالت کی نگرانی میں سی بی آئی تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے آ سکیں۔
تمل ناڈو کے کوئمبتور میں کانگریس رہنما پلم راجو نے کہا کہ رام جنم بھومی تحریک سے لے کر رام مندر کی تعمیر تک بی جے پی نے بھگوان رام کے نام کو سیاسی طور پر استعمال کیا۔ ان کے مطابق ٹرسٹ کی تشکیل، تعمیراتی عمل اور مختلف انتظامی فیصلوں میں مرکزی حکومت کا کردار نمایاں رہا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اگر ٹرسٹ کے خلاف اتنے سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں تو وزیر اعظم کو اس پر عوام کے سامنے جواب دینا چاہیے اور رام بھکتوں کے جذبات کا احترام کرنا چاہیے۔

