رسول آباد (خصوصی رپورٹ)
رسول آباد شہر اور گرد و نواح کے متعدد دیہات کی ہزاروں کی آبادی کے لیے قائم کیا گیا واحد بنیادی مرکزِ صحت کئی برس گزرنے کے باوجود فعال نہ ہو سکا، جس کے باعث کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی سرکاری عمارت ویرانی کا منظر پیش کر رہی ہے۔ ڈاکٹرز، نرسنگ اسٹاف، پیرا میڈیکل عملے اور ادویات کی عدم فراہمی کے باعث یہ مرکزِ صحت مکمل طور پر غیر فعال ہے، جبکہ اس کا احاطہ آوارہ جانوروں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ اس وقت منظور کیا گیا تھا جب سابق رکن قومی اسمبلی سید جاوید علی شاہ کی کوششوں سے، اور اس دور میں جب ان کے صاحبزادے سید فہد علی شاہ یونین کونسل رسول آباد سے ضلع کونسل کا انتخاب لڑ رہے تھے، اس وقت کے وزیرِ اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے اس منصوبے کی منظوری دی تھی۔ عمارت مکمل ہونے کے باوجود مرکزِ صحت آج تک عوام کے لیے فعال نہ ہو سکا، جس پر کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ اسپتال کے لیے نہ مستقل ڈاکٹر تعینات کیے گئے، نہ نرسیں، نہ پیرا میڈیکل اسٹاف اور نہ ہی ادویات کی فراہمی یقینی بنائی گئی۔ نتیجتاً سرکاری خزانے سے خرچ ہونے والے کروڑوں روپے عوام کو کوئی عملی فائدہ نہ دے سکے۔علاقہ مکینوں کے مطابق ضلعی محکمہ صحت کی جانب سے کبھی کبھار محض نمائشی طور پر ڈیپوٹیشن پر چند ملازمین بھیجے جاتے ہیں، جو محدود وقت کے لیے موجود رہتے ہیں، تاہم مستقل بنیادوں پر اسپتال آج بھی بند پڑا ہے۔ دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث عمارت کی دیواریں، کمرے، دروازے اور دیگر انفراسٹرکچر تیزی سے تباہی کا شکار ہو رہے ہیں۔شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ جب ہر انتخابی مہم میں صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کے دعوے کیے جاتے ہیں تو پھر رسول آباد جیسے اہم مرکزِ صحت کو برسوں سے غیر فعال کیوں رکھا گیا؟ اگر منصوبے کی منظوری، بجٹ اور عمارت سب کچھ موجود ہے تو پھر عملے کی بھرتی اور SNE (سانکشنڈ نیو اسٹیبلشمنٹ) کی منظوری آج تک کیوں نہیں دی جا سکی؟مقامی افراد کا کہنا ہے کہ غریب اور مستحق مریض معمولی بیماریوں کے علاج کے لیے بھی خیرپور اور دیگر شہروں کے چکر لگانے پر مجبور ہیں، جہاں ان کا وقت، پیسہ اور بعض اوقات قیمتی جانیں بھی خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں صحت جیسی بنیادی سہولت سے مسلسل محروم رکھا جا رہا ہے۔شہریوں نے رکن قومی اسمبلی سید فضل علی شاہ (جگنو)، رکن سندھ اسمبلی شیراز شوکت راجپر، سابق ایم این اے سید جاوید علی شاہ اور وزیرِ صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو سے مطالبہ کیا ہے کہ رسول آباد کے بنیادی مرکزِ صحت کی SNE فوری منظور کر کے مستقل ڈاکٹرز، نرسیں، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر ملازمین تعینات کیے جائیں، عمارت کی ہنگامی بنیادوں پر مرمت کرائی جائے اور جدید طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ یہ مرکزِ صحت حقیقی معنوں میں عوام کے لیے علاج کا مرکز بن سکے۔شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر مرکزِ صحت کو جلد فعال نہ کیا گیا تو وہ احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوں گے

