واشنگٹن : یورپ اور افریقہ میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل کرسٹوفر ڈونا ہیو محض 18 ماہ بعد اپنے عہدے سے سبکدوش ہو گئے ہیں۔ ان کے استعفے کا اعلان جون کے اواخر میں کیا گیا تھا، تاہم وہ باضابطہ طور پر جمعرات 2 جولائی تک اپنے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ امریکی حکام کی جانب سے ان کے اچانک استعفے کی کوئی خاص وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔
جنرل کرسٹوفر ڈونا ہیو کے سبکدوش ہونے کے بعد، میجر جنرل کرسٹوفر نوریگا کو قائم مقام کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔ وہ تب تک اس عہدے پر فائز رہیں گے جب تک نئے کمانڈر کے نام کا اعلان اور تقرری کی توثیق نہیں ہو جاتی۔
ذرائع کے مطابق یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ فوج کے اعلیٰ عہدوں میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں کر رہے ہیں۔ مزید برآں، اس اہم عہدے کا درجہ ’فور اسٹار‘ جنرل سے کم کر کے ’تھری اسٹار‘ کمانڈ میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جس سے اس کمانڈ کی اہمیت اور ڈھانچے میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی ہوتی ہے۔
جنرل کرسٹوفر ڈونا ہیو اپنی عسکری خدمات کے دوران کئی اہم عہدوں پر فائز رہے۔ وہ 18ویں ایئر بورن کور اور 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کی قیادت کر چکے ہیں۔ تاہم، انہیں دنیا بھر میں سب سے زیادہ اس وقت شہرت ملی جب وہ 2021 میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے دوران کابل ایئرپورٹ سے روانہ ہونے والے آخری امریکی فوجی بنے تھے۔
ان کا یہ استعفیٰ امریکی فوج کی اعلیٰ سطح پر ہونے والی تنظیم نو کے عمل کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، جس پر پینٹاگون کی جانب سے مزید تفصیلات آنا باقی ہیں۔
امریکی فوج میں بڑی تبدیلیاں: جنرل ڈونا ہیو نے 18 ماہ بعد ہی کمان چھوڑ دی

