لاہور:لاہور کے علاقے ڈیفنس میں ہالینڈ اور وینزویلا سے آئی 2 غیر ملکی خواتین کو اغواء کرکے زیادتی کا نشانہ بنانے کا معاملہ، کیس میں نیا موڑ، نامزد ملزمان اور غیر ملکی خواتین کاروباری شراکت دار نکلیں۔
دریں اثنا پولیس نے مقدمے میں گرفتار چار ملزمان کو کینٹ کچہری پیش کردیا۔جوڈیشل مجسریٹ اظہر محمود نے کیس کی سماعت کی۔فاضل جج نے ملزمان کا کمرہ عدالت میں ماسک اتروا دیاجبکہملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر ان کا 5روزہ جسمانی ریمانڈ دیے کر پولیس کے حوالے کردیا۔
ڈی ائی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ بازیاب ہونے والی ایک لڑکی کے والد نے سپین سے پولیس کی ہیلپ لائن ون فائیو پر کال کی تھی، جس میں انھوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی دو دن سے پاکستان آئی ہوئی ہے اور آخری مرتبہ جب ان کی اپنی بیٹی سے بات ہوئی تھی تو انھوں نے بتایا کہ اسے ایف آئی آر میں نامزد ملزمان نے اغوا کرلیا ہے اور پندرہ لاکھ ڈالر کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
سینیئر پولیس افسر کے مطابق جب کوئی ایسی کال بیرون ملک سے آتی ہے تو اس کی اطلاع اعلیٰ افسران اور چیف منسٹر ہاؤس کو دی جاتی ہے۔
’جیسے ہی یہ کال موصول ہوئی تو وزیر اعلیٰ کی کال آئی اور انھوں نے کہا کہ ’دو گھنٹے کے اندر اندر یہ لڑکیاں بازیاب کروائیں اور ان ملزمان کو گرفتار کریں۔‘
ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق سپین سے آنے والی کال میں یہ بھی بتایا گیا کہ لڑکی نے والد سے گفتگو کے دوران اس گاڑی کا نمبر بھی بتایا تھا، جس میں ملزمان انھیں سوار کرکے لے جا رہے تھے۔
تاہم انھوں نے کہا کہ ’یہ خواتین اپنی مرضی سے پاکستان آئیں تھیں اور اپنے کہیں بھی آنے جانے کی اطلاع اور تصاویر اپنے گھر والوں سے شئیر کر رہی تھیں۔‘
’ہم نے ان لڑکیوں کے گھر والوں سے فوراً تمام تصاوپر منگوائیں، جس میں اس گاڑی کی تصویر بھی شامل تھی جس پر وہ ان لڑکوں (مبینہ ملزمان) کے ساتھ سفر کر رہی تھیں۔ ہم نے اس گاڑی کی نمبر پلیٹ سے فوری سارا ڈیٹا نکال لیا اور اس کی ٹریسنگ شروع کر دی۔‘
ڈی آئی جی فیصل کامران کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ہی انھیں معلوم ہوا کہ یہ ’گاڑی کب شاہدرہ سے گزری، کب سرگودھا پہنچی، کب اسلام آباد گئی، وہاں کہاں کہاں رکی۔‘
’اس طرح ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہم لاہور کے ڈیفینس کے علاقے تک جا پہنچے، جہاں ہم نے چھاپہ مارا اور ان لڑکیوں کو بازیاب کروایا۔‘
’ہم نے لڑکیوں کو بازیاب کروایا اور پکڑے جانے والے ملزمان کی مدد سے دیگر ملزمان کو پکڑا۔‘
لاہور کے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق یہ سارا معاملہ کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کے وعدے سے شروع ہوا تھا۔
ان کے مطابق یہ معاملہ پاکستان کے باہر سے شروع ہوا جب یہ دونوں غیر ملکی خواتین مرکزی ملزم سے سنگاپور میں کاروبار کے سلسلے میں ملیں۔ وہاں ان دونوں پارٹیوں کے درمیان کرپٹو میں سرمایہ کاری کے لیے بات چیت ہوئی۔
’مرکزی ملزم اور اس کے دوست نے مل کر ڈالرز میں لڑکیوں کے ساتھ مل کر سرمایہ کاری کی اور ان کے درمیان یہ طے پایا کہ اس سرمایہ کاری سے آنے والا منافع آپس میں تقسیم ہوگا، جس کے بعد یہ لڑکے پاکستان آگئے۔‘
تاہم فیصل کامران کے مطابق ان خواتین نے ملزمان کو منافع کی رقم نہیں دی اور ان کے ’فون کالز اور مسیجز کا جواب دینا بند کر دیا۔‘
سینیئر پولیس افسر کہتے ہیں کہ یہ خواتین مبینہ طور پر مزید سرمایہ کاری کے حوالے سے بات چیت کرنے پاکستان آئی تھیں اور انھیں تین جولائی کو پاکستان سے واپس جانا تھا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’دو تین دن یہ خواتین اور ملزمان مختلف شہروں میں گھوتے پھرتے رہے۔ جس میں لاہور، اسلام آباد اور مری بھی شامل ہیں۔ وہاں انھوں نے مختلف لوگوں سے ملاقاتیں کی کھانے وغیرہ کھائے۔‘
’ان خواتین کی واپسی تین جولائی کو تھی، اس لیے یہ لاہور واپس آگئیں۔ جیسے ہی یہ واپس لاہور پہنچیں تو ان میں سے ایک ملزم نے کہا ’میں تو اپنے پیسے واپس لیے بغیر ان لڑکیوں کو پاکستان سے نہیں جانے دوں گا۔‘
’جس کے بعد اس نے اپنے دوست کی مدد سے کرائے پر گھر لیا اور اس کے دوست نے دو غنڈے بلا کر لڑکیوں کو اغوا کروایا اور پھر ان کے باپ کو کال کرکے اغوا برائے تعاوان کے لیے پیسے مانگے۔‘
ی آئی جی فیصل کامرن کہتے ہیں کہ ’بےشک یہ لین دین کا معاملہ ہو لیکن پیسوں کی واپسی کے لئے کسی کو اغوا تو نہیں کیا جاسکتا۔‘

