ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات کی تیاریاں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں جہاں ان کا جسد خاکی تہران کے امام خمینی حسینیہ سینٹر میں رکھا گیا ہے تاکہ عوام، رہنما اور معزز شخصیات آخری دیدار کر سکیں۔
دارالحکومت تہران میں تعزیتی تقریبات کے سلسلے میں غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ مصلیٰ الکبیر اور دیگر اہم مقامات پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات نافذ ہیں جبکہ لاکھوں افراد کی شرکت کے پیش نظر متعلقہ ادارے مسلسل تیاریاں کر رہے ہیں۔خبر رساں ادارے ’اسنا‘ کے مطابق ایران آنے والے کچھ غیر ملکی مہمانوں نے تہران میں دعائیہ تقریب میں شرکت کر کے ہلاک شدگان کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری رہے گا۔
اس تقریب میں شرکت کے لیے پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور طالبان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی تہران میں موجود ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، تاجکستان، چین اور انڈیا کے حکام بھی اس تقریب میں شرکت کریں گے۔
متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ منصوبے کے مطابق، علی خامنہ ای کی ’الوداعی اور جنازے‘ کی تقریب کئی مراحل میں اور مسلسل کئی دنوں تک منعقد کی جائے گی۔تہران اور پھر قم میں جنازے کے بعد، ان کی تدفین کی تقریب آئندہ جمعرات کو مشہد میں متوقع ہے، تاہم اس سے قبل انھیں عراق کے شہروں نجف اور کربلا بھی لے جایا جائے گا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی وفات نے امتِ مسلمہ کو گہرے صدمے سے دوچار کیا ہے۔ ان کے بقول یہ سرخ سفر کا اختتام نہیں بلکہ اتحاد، استقامت اور ترقی کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔
شہید سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا آخری دیدار، جسد خاکی خمینی حسینیہ سنٹر رکھ دیا گیا

