امریکا-ایران مذاکرات میں پیش رفت: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 4 ماہ کی کم ترین سطح پر
لندن/واشنگٹن (رپورٹ: نیوز ڈیسک) امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کے آثار کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ قطر کی جانب سے مذاکرات کو نتیجہ خیز قرار دیے جانے کے بعد سرمایہ کاروں کے خدشات میں کمی واقع ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں چار ماہ کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں تازہ ترین صورتحال
برینٹ خام تیل: 73 سینٹ (1.02 فیصد) کمی کے بعد 70.84 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI): 83 سینٹ (1.21 فیصد) گر کر 67.75 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
مسلسل دوسرے روز قیمتوں میں ایک فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کے پیچھے ایک اہم وجہ ‘اوپیک پلس’ (OPEC+) ممالک کی جانب سے پیداوار بڑھانے کا امکان بھی ہے۔ ذرائع کے مطابق، اتوار کو ہونے والے اجلاس میں رکن ممالک اگست سے یومیہ تقریباً 1 لاکھ 88 ہزار بیرل اضافی پیداوار کی منظوری دے سکتے ہیں، جو پچھلے دو مہینوں کے اضافے کے برابر ہوگی۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل کے ذخائر 3.8 ملین بیرل کم ہو کر 408.4 ملین بیرل رہ گئے ہیں۔ یہ سطح ستمبر 2018 کے بعد سے کم ترین ہے، تاہم یہ کمی تجزیہ کاروں کی 4.5 ملین بیرل کی پیشگوئی سے کم رہی، جس کے باعث منڈی پر اس کا گہرا اثر نہیں پڑا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا مکمل خاتمہ نہیں ہوتا، منڈی میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہ سکتی ہے، تاہم موجودہ سفارتی پیش رفت نے توانائی کی سپلائی لائن کے حوالے سے خدشات کو کافی حد تک کم کر دیا ہے۔

