اسلام آباد+دوحہ+تہران:پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق دوحہ میں پاکستان اور قطر کے ثالثوں نے امریکا اور ایران کے مذاکرات کاروں سے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں۔
وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بات چیت میں سوئٹزرلینڈ مذاکرات اور اسلام مفاہمتی یادداشت پر پیش رفت ہوئی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور ایرانی رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے کے بعد ہو گا۔
قطری وزارتِ خارجہ کے مطابق پاکستان اور قطر کے ثالثوں نے بدھ کو امریکا اور ایران کے مذاکرات کاروں کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں مکمل کر لی ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ برگن سٹاخ سربراہی اجلاس کے نتائج کی بنیاد اور ’اسلام آباد مفاہمت یادداشت‘ سے متعلق اُمور پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔
Qatar & Pakistan mediators concluded separate meetings with the US & Iranian negotiators in Doha today, with positive progress made on issues related to the Islamabad Memorandum of Understanding, building on the outcomes of the Lake Lucerne Summit. The parties agreed to continue…
— د. ماجد محمد الأنصاري Dr. Majed Al Ansari (@majedalansari) July 1, 2026
قطری وزارتِ خارجہ کے مطابق فریقین نے آئندہ عرصے میں بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے اور ایرانی کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے کے بعد بات جلد از جلد دوبارہ مذاکرات کیے جائیں گے۔
امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کسی واضح اور متعین مقصد کے بغیر ایران میں فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔
بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ’میں جس بات کی تصدیق کر سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ صدر ٹرمپ ہماری فوج کو دوبارہ وہاں بھیجنے کے خواہشمند نہیں ہیں، جب تک کہ ایسا کرنا ناگزیر نہ ہو جائے۔‘
امریکی نائب صدر نے خبردار کیا کہ ایران کی جانب سے اپنے جوہری پروگرام کی بحالی یا تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوئی بھی کوشش واشنگٹن کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔
وینس نے تصدیق کی کہ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات ’اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں‘ اور اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکی انتظامیہ اب بھی ’نیک نیتی‘ کے ساتھ ان مذاکرات پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے۔

