الہ آباد (سلطان فرید)
جامعہ مسجد انوارِ صفحہ (نزد ولی ہاؤس، الہ آباد) میں ایک روح پرور "محفلِ شہدائے کربلا کانفرنس” کا انعقاد کیا گیا، جس میں الہ آباد اور گردونواح سے عاشقانِ رسول ﷺ اور محبانِ اہلِ بیت کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معروف مذہبی سکالر پیر امجد علی مجددی نے کہا ہے کہ امتِ مسلمہ کا موجودہ زوال صرف اسی صورت میں ختم ہو سکتا ہے جب ہم فکری اور عملی طور پر مولا امام حسین علیہ السلام کے نقشِ قدم پر چلنا شروع کر دیں۔کانفرنس کا باقاعدہ آغاز کلامِ الٰہی سے ہوا، جس میں قاری عرفان نقشبندی نے اپنی سحر انگیز آواز میں تلاوتِ قرآن پاک کا شرف حاصل کیا۔ اس کے بعد بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عقیدت کے پھول نچھاور کرنے کے لیے قاری محمد صفدر اور قاری ارشاد احمد وارثی نے نہایت خوبصورت انداز میں نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کر کے محفل میں سماں باندھ دیا۔پیر امجد علی مجددی نے اپنے خصوصی خطاب میں فلسفۂ شہادت پر روشنی ڈالتے ہوئے مزید کہا کہ معرکہ کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ حق و باطل کا وہ ابدی معرکہ ہے جو قیامت تک آنے والے انسانوں کو ظلم کے سامنے ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔آج مسلم امہ جس فکری و اخلاقی بحران اور زوال کا شکار ہے، اس کا واحد حل یہ ہے کہ ہم مصلحت پسندی کو چھوڑ کر اسوۂ شبیری کو اپنائیں اور کردارِ حسینی کے سانچے میں ڈھل جائیں۔انہوں نے حاضرین سے اپیل کی کہ خانقاہی نظام اور مساجد کو فکرِ حسینؑ کے فروغ کا مرکز بنایا جائے تاکہ نئی نسل کو ایثار، قربانی اور حق گوئی کا اصل پیغام منتقل کیا جا سکے۔اس پروقار اور بابرکت موقع پر علاقے کی ممتاز مذہبی و سماجی شخصیات نے خصوصی شرکت کی، جن میں علامہ علی حسن نقشبندی، محمد عاشق مجددی، اللہ رکھا، شیخ نواز (ولی ہاؤس والے) اور قاری انعام اللہ شامل تھے۔ تمام معزز مہمانوں نے محفل کے بہترین انتظامات کو سراہا اور شہدائے کربلا کے ذکر کو دلوں کے لیے باعثِ حیات قرار دیا۔

