ملتان: قدرت نے انسان کو جس امتحان میں ڈالا ہے، اس کی شاید ہی کوئی اور مثال ملے۔ ملتان کے علاقے رشید آباد میں ایک باپ اپنی زندگی کا سب سے بڑا صدمہ سہنے کے باوجود، غربت کے ہاتھوں اتنا مجبور تھا کہ وہ اپنے 25 سالہ بیٹے دانش کی نعش کو کفن تک نہ پہنا سکا۔
بتایا گیا ہے کہ دانش کا انتقال طبعی موت سے ہوا تھا۔ گھر میں فاقہ کشی اور کسمپرسی کا یہ عالم تھا کہ والد کے پاس اپنے لختِ جگر کو آخری بار کفن پہنانے کے لیے بھی پیسے نہیں تھے۔ باپ نے ہمت ہاری اور بیٹے کی میت کو بغیر کفن کے ہی چارپائی پر لاد کر قبرستان کی جانب چل دیا، گویا وہ دنیا کو اپنی غربت کا کرب دکھا رہا ہو۔
یہ روح فرسا منظر دیکھ کر اہل علاقہ کے دل دہل گئے اور کسی نے فوراً مقامی پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس کی ٹیمیں جب موقع پر پہنچیں تو اس باپ کی بے بسی دیکھ کر ان کی آنکھیں بھی چھلک پڑیں۔ لوہاری گیٹ پولیس اہلکاروں نے اپنی جیب سے پیسے خرچ کر کے نہ صرف کفن کا انتظام کیا بلکہ دیگر ضروری لوازمات بھی پورے کیے، جس کے بعد بیٹے کی تدفین باعزت طریقے سے عمل میں لائی گئی۔
یہ واقعہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک کھلا سوال ہے کہ کیا ہم اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ ایک باپ کو اپنے بیٹے کی آخری رسومات کے لیے بھی دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑے۔ یہ دلخراش سانحہ جہاں اس باپ کی ہمت اور لاچاری کو ظاہر کرتا ہے، وہیں یہ نظام کے چہرے پر ایک کرارا طمانچہ بھی ہے جہاں انسان زندگی تو کیا، موت کے بعد کے کفن کے لیے بھی محتاج ہے۔
اس افسوسناک واقعے نے علاقہ مکینوں کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا ہے اور ہر آنکھ اشکبار
ملتان: غربت کی انتہا، باپ بیٹے کی میت بغیر کفن ہی دفنانے قبرستان پہنچ گیا

