قاضی احمد رپورٹ سائين بخش لاکھو
قاضی احمد کے قریب گاؤں قاسم خاصخیلی میں زمین کی ملکیت کے پرانے تنازع پر دو بھائیوں، رسول بخش خاصخیلی اور اللہ ورایو خاصخیلی، کے گروپوں کے درمیان جھگڑا شدت اختیار کر گیا۔ جھگڑے کے دوران فائرنگ، کلہاڑیوں اور ڈنڈوں کا استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں دونوں فریقوں کے مردوں اور خواتین سمیت 10 افراد زخمی ہو گئے۔اللہ ورایو خاصخیلی کے گروپ سے وزیر خاصخیلی، محمد سلیم خاصخیلی، شہمیر خاصخیلی، نغمہ خاصخیلی اور سلمیٰ خاصخیلی زخمی ہوئے، جنہیں علاج کے لیے تعلقہ اسپتال قاضی احمد منتقل کیا گیا۔ جبکہ رسول بخش خاصخیلی کے گروپ سے رسول بخش خاصخیلی، حبیب اللہ خاصخیلی، زبیر خاصخیلی، پناہ خاتون اور نجمہ خاصخیلی زخمی ہوئے، جنہیں بھی اسپتال منتقل کیا گیا۔واقعے کے بعد خاصخیلی برادری کے افراد نے پولیس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے نیشنل ہائی وے پر دھرنا دے کر سڑک بلاک کر دی۔احتجاج کرنے والوں میں شامل رسول بخش خاصخیلی نے الزام عائد کیا کہ قاضی احمد پولیس، خصوصاً ایس ایچ او، نے رشوت لینے کے باعث ملزمان کو گرفتار نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت کارروائی کی جاتی تو یہ واقعہ پیش نہ آتا۔ دوسری جانب اللہ ورایو خاصخیلی نے الزام لگایا کہ برادری کے معزز شخص علی حسن خاصخیلی، ساکن خاصخیلی، نے دونوں فریقوں میں تصادم کرانے کے لیے باہر سے افراد بلا کر ان کے گھروں پر حملہ کروایا، جبکہ آج ایم پی اے غلام قادر چانڈیو کی موجودگی میں دونوں فریقوں کے درمیان فیصلہ ہونا تھا، جسے ناکام بنانے کے لیے یہ حملہ کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ قاضی احمد پولیس کارروائی کرنے کے بجائے رشوت طلب کر رہی ہے۔دوسری طرف، الزامات کا سامنا کرنے والے خاصخیلی برادری کے معزز شخصیت علی حسن خاصخیلی نے رابطہ کرنے پر اپنے بیان میں کہا کہ وہ صبح پیش آنے والے واقعے کی سخت مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ واقعے میں ملوث تمام افراد کے خلاف فوری مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کیا جائے۔

