بلوچستان رحمت اللہ بلوچ بیوروچیف بے نقاب نیوز نیٹورک)
قلات کے ڈی ایچ کیو ہسپتال کی ایمرجنسی میں گزشتہ رات ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں تین مختلف مدارس کے متعدد کم عمر طلبہ کو اچانک طبیعت خراب ہونے پر علاج کے لیے لایا گیا۔ہسپتال ذرائع کے مطابق، بڑی تعداد میں بچوں کی ایک ساتھ طبیعت خراب ہونے پر ڈاکٹرز اور طبی عملہ فوری طور پر متحرک ہوگیا اور تمام طلبہ کو ہنگامی طبی امداد فراہم کی گئی۔مدارس کے اساتذہ نے بتایا کہ ایک بروبکس گاڑی میں تیار کیا گیا شربت طلبہ کو پلایا گیا تھا، جبکہ یہی شربت طلبہ کے کولروں میں بھی ڈالا گیا تھا۔ شربت پینے کے کچھ ہی دیر بعد متعدد طلبہ کی طبیعت بگڑ گئی۔ذرائع کے مطابق، ایک مدرسے کے استاد کی حالت دیگر متاثرین کے مقابلے میں زیادہ تشویشناک تھی۔ امید کی جا رہی ہے کہ ان کی طبیعت سنبھلنے کے بعد واقعے کی اصل وجوہات کے بارے میں مزید معلومات سامنے آسکیں گی۔
اس موقع پر ایس ایچ او سٹی عبدالمجید رئیسانی بھی ڈی ایچ کیو ہسپتال میں موجود تھے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی مکمل انکوائری کی جا رہی ہے، اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔متاثرہ طلبہ کا تعلق قلات شہر کے مختلف مدارس، محلہ پت، محلہ خیل سمیت قلات اور گردونواح کے علاقوں، جن میں سرخین، کپوتو، سوراب اور باغبانہ شامل ہیں، سے بتایا جاتا ہے۔
ڈی ایچ کیو ہسپتال میں فوری علاج اور طبی امداد کے بعد بیشتر طلبہ کی حالت میں بہتری آنے پر انہیں واپس لے جایا گیا۔
واقعے کی خبر پھیلتے ہی شہریوں کی بڑی تعداد ڈی ایچ کیو ہسپتال پہنچ گئی، جس کے باعث وہاں کافی رش دیکھنے میں آیا۔واقعے کی مزید تفصیلات اور تحقیقات سے متعلق نئی معلومات موصول ہوتے ہی عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔

