لندن+ دبئی: جمعرات کے روز سونے کی بین الاقوامی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر تیزی دیکھی گئی ہے اور قدر میں 1.4 فیصد اضافے کے بعد قیمت 4,316.42 ڈالر فی اونس کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس تیزی سے قبل گزشتہ کاروباری سیشن میں سونے کی قیمتوں میں 1.7 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی تھی۔
ماہرینِ معاشیات کے مطابق، اس اچانک بہتری کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے حالیہ عبوری معاہدے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال میں بہتری اور خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ ہے۔ تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث عالمی سطح پر مہنگائی کے خدشات میں کچھ حد تک کمی واقع ہوئی ہے، جس نے سونے کی مانگ کو دوبارہ مستحکم کیا ہے۔
اوینڈا کے سینئر مارکیٹ تجزیہ کار کیلون وونگ کا کہنا ہے کہ "گزشتہ روز کی گراوٹ کے بعد مارکیٹ میں ‘شارٹ کورنگ’ کا رجحان دیکھا گیا، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں نے دوبارہ سونے میں دلچسپی لینا شروع کر دی ہے۔”
دوسری جانب امریکی گولڈ فیوچرز (اگست) 1 فیصد کمی کے ساتھ 4,336.70 ڈالر پر ٹریڈ کرتے دکھائی دیے۔ سونے کے علاوہ دیگر قیمتی دھاتوں نے بھی مارکیٹ میں مثبت رجحان برقرار رکھا ہے۔ چاندی کی قیمت 1.8 فیصد اضافے کے ساتھ 69.18 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 1.2 فیصد اضافے کے بعد 1,757.53 ڈالر اور پیلیڈیم کی قیمت میں 1.3 فیصد بہتری کے ساتھ 1,329.99 ڈالر فی اونس پر پہنچ گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی پیش رفت اور عالمی اقتصادی پالیسیوں میں تبدیلیوں کے پیشِ نظر سونے کی قیمتوں میں یہ اتار چڑھاؤ آنے والے دنوں میں بھی جاری رہ سکتا ہے۔
امریکاایران معاہدے کے بعد عالمی معاشی منظرنامہ تبدیل،سونے کی اونچی اڑان شروع

