پیرس :فرانس میں منعقدہ جی سیون سربراہ اجلاس کے موقع پر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ”یہ ایک یادداشتِ مفاہمت ہے۔ اگر یہ مجھے پسند نہ آئی تو ہم دوبارہ ان پر گولیاں برسانا شروع کر دیں گے، ان کے سروں پر بم گرائیں گے۔ اگر یہ مجھے پسند نہ آئی، اگر انہوں نے مناسب رویہ اختیار نہ کیا، تو ہم دوبارہ ان کے سروں کے عین اوپر بم برسانا شروع کر دیں گے۔“
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ یادداشتِ مفاہمت میں ایران کے لیے فوری طور پر پابندیوں میں نرمی کی کوئی شق شامل نہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس معاملے پر بعد میں بات کریں گے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس کو بتایا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا متن ’کم از کم‘ جمعے کی صبح تک جاری کیا جائے گا۔
نائب صدر وینس کا کہنا تھا کہ قطر اور پاکستان کے مذاکرات کاروں نے ’فی الحال ہم مکمل متن جاری نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔’ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اسے آج جاری کروا دیں کیونکہ ہم امریکی عوام کو بتایا چاہتے ہیں کہ معاہدے میں کیا ہے۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’امریکی عوام کے لیے یہ ایک اچھا معاہدہ ہے۔‘
ایران نے مناسب رویہ اختیار نہ کیا تو دوبارہ بم برسائینگے، قطر، پاکستان کی درخواست پر معاہدے کامتن ظاہر نہیں کیا، امریکا

