چکوال :(رپورٹ جلیل نقوی )
چکوال میں اوورسیز آسٹریلوی خاندان پر سی سی ڈی کی فائرنگ سے 9 سالہ معصوم بچی ہانیہ احمد کے جاں بحق ہونے کے کیس میں نامزد اہلکار کے خلاف سخت ترین دفعات شامل کرلی گئی ہیں اور ملزم کو جیل بھیج دیا گیا، ابتدائی تحقیقات میں بغیر وارننگ فائرنگ ثابت ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آسٹریلیا حکومت کی جانب سے واقعہ کا سختی سے نوٹس لینے کےبعد سی سی ڈی نے بھی اپنے قصوروار اہلکار کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا ، چکوال میں سی سی ڈی اہلکاروں کی مبینہ غفلت اور اندھا دھند فائرنگ سے 9 سالہ آسٹریلوی شہری ہانیہ احمد کی ہلاکت کے مقدمے میں قانون کا گھیرا تنگ ہونا شروع ہو گیا ہے، تفتیش کے بعد ابتدائی نرم دفعات کو ختم کر کے نامزد اہلکار پر ارادی طور پر قتل کی دفعہ 302 کا اضافہ کردیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
اوورسیز پاکستانی کی گاڑی پر سی سی ڈی کی فائرنگ ، 9 سالہ بچی جاں بحق، والد اور بھائی زخمی
معلوم ہوا ہے کہ ابتدائی طور پر اہلکار کیخلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 322 قتلِ خطا یا حادثاتی موت کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں ضمانت اور بچاؤ کے راستے آسان ہوتے ہیں، تاہم تفتیش کے دوران جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے ٹھوس شواہد، گواہوں کے بیانات اور گاڑی پر لگنے والی گولیوں کے فرانزک جائزے کی روشنی میں مقدمے میں سخت ترین قانونی دفعہ 302 قتلِ عمد یعنی ارادی قتل کی دفعہ شامل کر دی ہے، جس کی سزا موت یا عمر قید ہے۔
تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ مقدمے میں باقاعدہ نامزد سی سی ڈی اہلکار شجاع کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے وہ آلۂ قتل سرکاری رائفل برآمد کر لی گئی ہے جس سے معصوم ہانیہ پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی تھی، اس برآمدگی کو کیس کا سب سے بڑا دستاویزی ثبوت مانا جا رہا ہے، پولیس نے ملزم شجاع کو تمام برآمدگیوں اور نئی دفعات کے ساتھ جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا، عدالت نے پولیس کی ابتدائی کارروائی کو مکمل قرار دیتے ہوئے ملزم کا جوڈیشل ریمانڈ منظور کر لیا اور اسے فوری طور پر جیل منتقل کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔
چکوال،پاکستانی نژاد آسٹریلوی خاندان پر سی سی ڈی فائرنگ کیس میں اہم پیشرفت


