کوئٹہ (بیورو رپورٹ: رحمت اللہ بلوچ)
بلوچستان بھر میں ٹرانسپورٹرز کی جانب سے دی گئی پہیہ جام ہڑتال کے باعث صوبے کا ٹرانسپورٹ نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے، جس سے نہ صرف مقامی بلکہ بین الصوبائی سفر کرنے والے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ہڑتال کے اثرات حب سے لے کر ژوب تک واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ صوبے کی اہم قومی شاہراہوں پر غیر معمولی سناٹا ہے اور مسافر کوچز، ٹرکوں اور دیگر مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت تقریباً معطل ہے۔
ضلعی سطح پر صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو کوئٹہ، خضدار، قلات، مستونگ، نوشکی، لورالائی، قلعہ سیف اللہ، پشین، حب اور ژوب سمیت بلوچستان کے چھوٹے بڑے تمام اضلاع میں ہڑتال کے باعث ٹرانسپورٹ کے پہیے تھم گئے ہیں۔ اہم تجارتی راستوں پر گاڑیوں کی عدم موجودگی کے باعث تجارتی سرگرمیاں بھی جمود کا شکار ہیں۔
ٹرانسپورٹ کی بندش کے باعث دور دراز علاقوں سے آنے والے مسافر اپنے گھروں تک پہنچنے کے لیے پریشان حال ہیں۔ بس اڈوں پر مسافروں کی بڑی تعداد ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے باعث پھنسی ہوئی ہے جبکہ عام شہریوں کو اپنے روزمرہ کے امور کی انجام دہی میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔
ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ان کے مطالبات کی منظوری تک پہیہ جام ہڑتال جاری رہے گی۔ دوسری جانب انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی ٹھوس لائحہ عمل سامنے نہیں آیا جس کے بعد ہڑتال کے طول پکڑنے سے صوبے میں اشیائے خوردونوش اور ایندھن کی سپلائی لائن متاثر ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بلوچستان میں پہیہ جام ہڑتال: نقل و حمل کا نظام مکمل ٹھپ، مسافر خوار


