جھنگ : جھنگ کے علاقے سلطان کالونی کی رہائشی 17 سالہ طالبہ ایشال فاطمہ مبینہ اغوا کے بعد ہسپتال میں دم توڑ گئی۔ پولیس نے مقتولہ کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے کارروائی شروع کر دی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، ایف ایس سی کی طالبہ ایشال فاطمہ 4 جون کو گھر سے کپڑے لینے نکلی تھی جس کے بعد وہ لاپتہ ہو گئی۔
اہل خانہ کے مطابق لڑکی کو خلیل الرحمان نامی لڑکا ورغلا کر حسیب خان کے ایک قریبی عزیز کے گھر لے گیا، جہاں امیش جوگی اور حسن کوڑیانہ سمیت دیگر ملزمان نے اسے مبینہ طور پر نشہ آور اشیاء کا استعمال کرایا۔طبیعت زیادہ بگڑنے پر ملزمان اسے مقامی ہسپتال چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ ہسپتال میں دو روز زیرِ علاج رہنے کے بعد ایشال فاطمہ جان کی بازی ہار گئی۔
واقعہ کا مقدمہ درج ہونے کے بعد سی سی ڈی (CCD) اور مقامی پولیس متحرک ہو گئی ہے۔ سب انسپکٹر ملک علی رضا نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم امیش جوگی کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ایس ایچ او سیٹلائٹ ٹاؤن ذیشان حیدر سیال نے واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی برآمد کر لی ہے۔ دیگر ملزمان، خلیل الرحمان، حسیب اور حسن کی گرفتاری کے لیے انسپکٹر حافظ عثمان ہراج اور انچارج اسد دھولکہ کی سربراہی میں مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
مقتولہ کے والد نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے بیٹی کے قتل میں ملوث سفاک ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچانے اور فوری انصاف کی فراہمی کی اپیل کی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ موت کی اصل وجوہات پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد سامنے آئیں گی، جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیجز اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مفرور ملزمان کا پیچھا کیا جا رہا ہے۔


