انڈین دارالحکومت نئی دہلی کے جنوبی علاقے مالویہ نگر کے ایک ہوٹل میں بدھ کے روز لگنے والی شدید آگ پر جہاں ایک جانب تنقید ہو رہی ہے وہیں آگ سے درجنوں جانیں بچانے والوں کی تعریف بھی کی جا رہی ہے۔
جان بچانے والوں میں پانچ مسلمانوں کا بطور خاص ذکر کیا جا رہا ہے جن کی انڈین میڈیا اور سوشل میڈیا پر پزیرائی ہو رہی ہے کیونکہ انھوں نے اپنی جان و مال کی پروا کیے بغیر درجنوں زندگیاں بچائيں۔
حکمراں جماعت بی جے پی کے مقامی رکن اسمبلی نے ان کی تعریف کی اور ان کے ساتھ تصویر بھی لی۔ کوئی ان کی ہمت کی داد دے رہا ہے تو کوئی انھیں ‘انسانیت کی مثال’ اور ‘جان بچانے والا فرشتہ’ قرار دے رہا ہے۔
ان کی اس کاوش کے باوجود اس آگ میں 21 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں 11 غیر ملکی شہری بھی شامل تھے۔ ان میں سے بیشتر اپنے رشتہ داروں کے علاج کی غرض سے اس ہوٹل میں قیام پذیر تھے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت ایمبولینس آ گئی ہوتی تو اتنی جانیں نہ جاتیں۔
اس واقعے کے دوران ایک تصویر نے سوشل میڈیا پر لوگوں کی توجہ اپنی جانب بطور خاص مبذول کرائی۔ اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سڑک پر بچھائے گئے گدوں پر چھلانگ لگا کر تقریباً ایک سے ڈیڑھ درجن افراد نے اپنی جانیں بچائیں۔ یہ دانائی اور حاضر دماغی ہوٹل کے عین سامنے گدوں کی دکان چلانے والے ریاض الدین اور ان کے بیٹے ارمـان منصوری نے دکھائی۔
ان کے علاوہ منصور، صلاح الدین، محمد شاہ رخ، سنجے گویل اور اسرار خان بھی بچانے والوں میں پیش پیش تھے۔
منصور کے مطابق ‘وہاں بہت خوفناک منظر تھا۔ کوئی بالکونی نہیں تھی، کچھ ہاتھ شیشے سے نظر آتے اور پھر غائب ہو جاتے۔ پھر ہم نے اینٹ مار مار کر شیشے توڑے، رسیاں پھینکیں تاکہ لوگ اس کے ذریعے نیچے آ سکیں۔’
اس منظر کی تصویر کو انھوں نے اپنے موبائل پر قید بھی کیا ہے۔
ہماری نامہ نگار نائلہ خواجہ نے اس علاقے کا دورہ کیا اور ان جان بچانے والوں میں سے تین افراد سے گفتگو کی۔
وسیم رضا نے بتایا کہ انھوں نے لوگوں کو سی پی آر دیا اور اپنی طرف سے متاثرین کی جان بچانے کی بہت کوشش کی۔ انھیں ان کے کام کی وجہ سے سراہا جا رہا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ کام شہرت کے لیے نہیں بلکہ انسانیت کے لیے کیا۔ تاہم انھیں اتنے لوگوں کے مرنے کا افسوس ہے۔

