بیروت:ایک طرف امریکا کی ثالثی میں ہونے والی نئی جنگ بندی کے چرچے ہیں تو دوسری طرف جنوبی لبنان میں خونریزی کا سلسلہ تھم نہ سکا۔ تازہ ترین اسرائیلی فضائی حملوں میں لبنانی فوج کے 3 اہلکاروں سمیت 9 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جس کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔
لبنانی فوج اور سرکاری میڈیا کے مطابق، اسرائیل نے نبطیہ اور مرجعیون کے درمیان سڑک پر چلنے والی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا، جس میں ایک بریگیڈیئر جنرل، ایک کیپٹن اور ایک فوجی شہید ہوئے۔ ایک اور حملے میں سکسکیہ گاؤں میں مزید 6 افراد لقمۂ اجل بن گئے۔ اسرائیلی فوج نے اپنے دفاع میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ گاڑی "مشکوک” انداز میں آگے بڑھ رہی تھی اور انہیں اطلاعات تھیں کہ حزب اللہ وہاں سے اسرائیلی فوجیوں پر حملہ کرنے والی ہے۔
لبنانی صدر جوزف عون نے اسرائیلی حملے کو ملک کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی "کھلی خلاف ورزی” قرار دیا ہے۔ لبنانی فوج نے بھی اس "جان بوجھ کر کی جانے والی مسلسل جارحیت” کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ان کوششوں کو ناکام بنانا چاہتا ہے جو خطے میں استحکام اور اسرائیلی انخلاء کے لیے کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب اس بحران نے ایران اور لبنان کے تعلقات میں بھی دراڑیں ڈال دی ہیں۔ لبنانی قیادت نے ایران پر تنقید کی کہ وہ لبنان کو امریکا کے ساتھ اپنے مذاکرات میں "بارگیننگ چپ” (سودے بازی کا آلہ) کے طور پر استعمال نہ کرے۔ اس پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سخت لہجے میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ "اگر لبنان ایران کے لیے سودے بازی کا آلہ ہوتا تو ہم بہت پہلے معاہدہ کر چکے ہوتے۔” انہوں نے لبنانی صدر کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے ملک کو ان کے "اصل دشمن” (اسرائیل) سے بچائیں۔
اس وقت اسرائیلی فوج لبنان کے تقریباً 20 فیصد رقبے پر قابض ہے، جو 1982-2000 کے قبضے کے بعد سب سے گہری پیش قدمی ہے۔ مارچ سے جاری اس جنگ میں اب تک 3,500 سے زائد لبنانی اور درجنوں اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 10 لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔
امریکا کی جانب سے ہونے والی جنگ بندی کی کوششیں اب ایک ایسے موڑ پر ہیں جہاں ایک چھوٹی سی چنگاری پورے خطے کو مزید بڑی تباہی کی طرف لے جا سکتی ہے۔
بیروت:جنگ بندی کے باوجود خونریزی: اسرائیلی حملے میں لبنانی بریگیڈیئر جنرل سمیت 3 فوجی شہید

