پسرور( محمد اشفاق سے )
پسرور اور گردونواح میں قائم غیر قانونی منی پٹرول پمپس شہریوں کی جان و مال کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں، مگر متعلقہ ادارے اور انتظامیہ تاحال خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ متعدد بار نشاندہی اور شکایات کے باوجود غیر قانونی طور پر قائم یہ پٹرول پمپس بدستور کام کر رہے ہیں۔گزشتہ روز راجہ ہرپال کنگرہ روڈ پر پیش آنے والا واقعہ اس خطرے کی واضح مثال ہے، جہاں ایک غیر قانونی منی پٹرول پمپ کے سٹوریج ٹینک میں آئل ٹینکر سے پٹرول منتقل کرتے وقت اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ ریسکیو 1122 کی بروقت کارروائی کے باعث آگ پر قابو پا لیا گیا، تاہم اگر آگ قریبی آبادی یا دیگر تنصیبات تک پھیل جاتی تو ایک بڑا سانحہ جنم لے سکتا تھا۔شہریوں کا کہنا ہے کہ پسرور میں درجنوں غیر قانونی منی پٹرول پمپس رہائشی علاقوں، بازاروں اور مصروف شاہراہوں کے کنارے قائم ہیں، جہاں نہ تو حفاظتی انتظامات موجود ہیں اور نہ ہی متعلقہ قوانین پر عملدرآمد کیا جاتا ہے۔

