واشگٹن ڈی سی :امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جمعے کو آبنائے ہرمز کی طرف داغے جانے والے چار ایرانی ڈرونز کو مار گرایا ہے جس کے بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایران کی بعض ریڈار سائٹس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’حملہ آور ڈرونز خطے میں بحری ٹریفک کے لیے فوری خطرہ بنے ہوئے تھے۔‘
سینٹکام نے مزید بتایا کہ امریکی افواج نے مزید حملوں سے بچاؤ اور دفاع کے لیے گورک اور جزیرہ قشم پر قائم ایرانی ساحلی نگرانی کے ریڈار ٹھکانوں پر حملے کیے۔
اس سے قبل جمعے ہی کو امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا تھا جس میں تہران نے کہا تھا کہ اس نے خلیج عمان میں امریکی جنگی جہازوں پر انتباہی فائرنگ کی جس کے باعث امریکی بحری جہاز بحر ہند کی طرف ’پیچھے ہٹنے‘ پر مجبور ہو گئے۔
— U.S. Central Command (@CENTCOM) June 6, 2026
سینٹکام نے موقف اپنایا کہ ’امریکی افواج خطے کے پانیوں میں آزادانہ طور پر اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ایران کے خلاف جاری ناکہ بندی پر مکمل عمل درآمد کروا رہی ہیں۔‘
امریکی فوج ایرانی بندرگاہوں کی یہ ناکہ بندی تہران کے اس اقدام کے جواب میں کر رہی ہے جس کے تحت اس نے عالمی سطح پر تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ترین راہداری کو بند کر رکھا ہے۔
ایران کے اس اقدام سے توانائی کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا ہے اور کانگریسکے وسطی مدتی انتخابات سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے لیے سیاسی مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق مزید حملوں سے بچاؤ کے لیے ریڈار ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جن میں آبنائے میں واقع ایک جزیرہ بھی شامل ہے۔
ایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کویت میں امریکہ کے دو فضائی اڈوں اور بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کی اہم تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
ان حملوں سے جنگ بندی کے خاتمے کے خدشات بڑھ گئے ہیں تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران کے ساتھ صورتحال کافی اچھی چل رہی ہے۔‘
وسکونسن میں کسانوں کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا ’ہم بہت جلد ایران کے معاملے سے باہر نکل آئیں گے اور یہ بہت مضبوط طریقہ ہو گا، خواہ یہ کاغذ کے ایک ٹکڑے (معاہدے) کے ذریعے ہو یا پھر انتہائی سخت راستے سے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’انتہائی سخت راستہ شاید زیادہ آسان راستہ ہے لیکن ہم اس سے نکلیں گے اور آپ کی کھاد کی قیمتیں بہت نیچے چلی جائیں گی، بالکل ویسے ہی جیسے چار ماہ پہلے تھیں۔‘
جمعے کو جب این بی سی کے پروگرام ’میٹ دی پریس‘ میں ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ اس معاملے میں اتنی تاخیر کیوں ہو رہی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ان (ایرانیوں) کے لیے بہت مشکل کام ہے۔‘
انہوں نے ایران کی ’عظیم آزادی‘ اور اس حقیقت کا حوالہ دیا کہ ’وہ مضبوط اور غیرت مند ہیں۔‘
صدر ٹرمپ نے انٹرویو میں کہا ’کچھ چیزیں ایسی ہیں جو انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ کریں گے لیکن اب انہیں وہ کرنا پڑیں گی۔ ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے اور اس میں تھوڑا وقت لگتا ہے۔‘
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایرانیوں کے پاس اب بھی 21 سے 22 فیصد تک میزائل موجود ہیں۔

