دولت پور پولیس تھانے کی حدود میں واقع گاؤں حافظ سلیمان راہو، صالح راہو کے رہائشی پسند کی شادی کرنے والے نوجوان فتن راہو نے اپنے بھائیوں کے ہمراہ پریس کلب قاضی احمد پہنچ کر صحافیوں کے سامنے فریاد کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ماہ کی 9 تاریخ کو انہوں نے اپنی برادری کی لڑکی کومل دختر علی راہو کے ساتھ گھر سے نکل کر ٹنڈو آدم کورٹ میں نکاح کیا تھا۔انہوں نے مزید الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ عید سے دو دن قبل برادری کے بااثر افراد حاجی جمن راہو، مٹھل راہو، سکندر راہو، حاجی عمر راہو اور عبدالحکیم راہو کے دباؤ اور یقین دہانی پر کومل کو اس کی نانی رسول بخش راہو کے حوالے کیا گیا تھا۔فتن راہو کا کہنا تھا کہ برادری کی جانب سے یہ معافی بھی مانگی گئی کہ لڑکی گھر سے نکل کر شادی کر چکی ہے، جس کے بعد معاملہ ختم سمجھا گیا۔ تاہم انہوں نے الزام لگایا کہ کومل کو واپس لے جانے کے بعد اسے لاپتہ کر دیا گیا ہے اور اب ان کے خلاف اغوا کا جھوٹا مقدمہ درج کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں گزشتہ دنوں اس معاملے کی سماعت نواب شاہ کی عدالت میں تھی، جہاں لڑکی کو پیش کیا جانا تھا، مگر اسے عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔فتن راہو نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اہلیہ کومل کو نقصان پہنچایا گیا ہے یا ممکنہ طور پر قتل کر دیا گیا ہے، جبکہ ان کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔ کومل ان کی قانونی بیوی ہے، اگر وہ زندہ ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ وہ خود اپنی مرضی اور فیصلہ ظاہر کر سکے۔فتن راہو نے صوبائی وزیر داخلہ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی شہید بینظیر آباد سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دولت پور پولیس اور مذکورہ بااثر افراد نے ان کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر ان، ان کے اہل خانہ یا کومل راہو کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو اس کے ذمہ دار مذکورہ افراد ہوں گے۔