امریکہ تجارتی معاہدے پر گفت و شنید جاری ہے۔ اس بیچ ،امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے بھارت سمیت 60 معیشتوں کے خلاف تجارتی کارروائی شروع کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ ان معیشتوں پر الزام ہے کہ انہوں نے جبری مشقت کے ذریعہ تیار کی جانے والی اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس پر مثر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہی ہیں ۔
منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں امریکی تجارتی نمائندے نے کہا کہ اس نے 1974 کے تجارتی قانون کے سیکشن 301 کے تحت یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ان 60 معیشتوں کے اقدامات، پالیسیاں اور طرزِ عمل نامعقول ہیں اور امریکی تجارت پر بوجھ ڈالتے یا اسے محدود کرتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب نئی دہلی اور واشنگٹن کے درمیان اہم مذاکرات جاری ہیں اور دونوں فریق دوطرفہ تجارتی معاہدے کے پہلے مرحلے کو حتمی شکل دینے پر کام کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے حکام متعدد تفصیلی مذاکرات کر چکے ہیں، جن میں بازار تک رسائی، زراعت، ٹیرف اور دیگر اہم معاملات شامل ہیں۔
بیان میں امریکی تجارتی نمائندے کے سفیر جیمسن گریئر نے کہاکہ ہمارے اہم ترین تجارتی شراکت داروں کی جانب سے جبری مشقت کے ذریعہ تیار شدہ اشیا کی درآمد کے مسئلے کو حل نہ کرنا ناقابل قبول ہے۔گریئر نے استدلال کیا کہ یہ بے ضابطگیاں ایسی صورتحال پیدا کرتی ہیں جس میں امریکی کارکنوں کو عالمی سطح پر غیر مساوی میدان میں مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔

