واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے پیر کے روز اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو اور حزب اللہ کے قیادت کے درمیان ثالثی کرواتے ہوئے، فریقین کے مابین باہمی حملے روکنے پر اتفاق رائے کا اعلان کیا ہے۔
جنگ بندی کے نکات اور ٹرمپ کا دعویٰ
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ طے پانے والے معاہدے کے تحت نہ تو اسرائیل حزب اللہ پر حملہ کرے گا اور نہ ہی حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ کسی بھی اسرائیلی فوجی کو بیروت جانے کی اجازت نہیں ہوگی اور جو دستے اس جانب پیش قدمی کر رہے تھے، انہیں واپس بلا لیا گیا ہے۔
دوسری جانب، اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے ٹرمپ سے بات چیت کی تصدیق کی ہے، تاہم انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے بند نہ ہوئے تو اسرائیل بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور جنوبی لبنان میں فوجی آپریشن اپنے منصوبے کے مطابق جاری رہے گا۔
ٹیلی فونک گفتگو میں تلخی اور ٹرمپ کا غصہ
BREAKING: Axios reports that Trump told Netanyahu in their latest phonecall, 'You’re f***ing crazy. You’d be in prison if it weren’t for me. I’m saving your ass. Everybody hates you now. Everybody hates Israel because of this.' pic.twitter.com/ZtanvKPdx8
— The Spectator Index (@spectatorindex) June 1, 2026
امریکی میڈیا ‘ایکسیس’ (Axios) نے ایک سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ اس جنگ بندی کے قیام کے لیے ہونے والی ٹرمپ اور نتن یاہو کی ٹیلی فونک گفتگو انتہائی تلخ رہی۔ رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے نتن یاہو پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور انہیں عالمی سطح پر اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی دشمنی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، "تم کیا کر رہے ہو؟ اب ہر کوئی تم سے اور اسرائیل سے نفرت کرنے لگا ہے۔” صدر ٹرمپ نے حزب اللہ کے ایک کمانڈر کو مارنے کے لیے پوری عمارتوں کو تباہ کرنے جیسے غیر متناسب فوجی ردعمل پر بھی سخت اعتراض کیا۔
زمینی حقائق اور معاہدے کے چیلنجز
اگرچہ سفارتی سطح پر یہ پیش رفت ہوئی ہے، لیکن زمینی حقائق تاحال غیر مستحکم ہیں۔ معاہدے کے اعلان کے کچھ ہی دیر بعد شمالی اسرائیل میں لبنان سے میزائل داغے جانے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ حزب اللہ کی جانب سے اس معاہدے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، جبکہ ایران نے زور دیا ہے کہ لبنان کو کسی بھی امن معاہدے کا لازمی حصہ بنایا جائے۔
واشنگٹن میں منگل اور بدھ کو ہونے والے مذاکرات کو اس بحران کے حل کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جہاں لبنانی مذاکرات کار مکمل جنگ بندی کے لیے اپنی کوششیں تیز کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

