تہران+ واشنگٹن :ایران نے لڑائی روکنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک مسودہ معاہدے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
اس معاہدے کے تحت خطے بھر میں، بشمول لبنان، لڑائی بند ہو جائے گی، آبنائے ہرمز آزاد تجارتی آمد و رفت کے لیے کھل جائے گی، امریکی بحری ناکہ بندی ختم ہو گی، اور ایران کے منجمد 25 ارب ڈالر کے اثاثے جاری کیے جائیں گے۔
ایٹمی معاملات کو علیحدہ طور پر 30 سے 60 دن کے اندر مذاکرات کے ذریعے طے کیا جائے گا۔
ایران کی جانب سے افزودہ یورینیم کے ذخائر سے دستبرداری پر اصولی اتفاق
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ ایک نئے امریکی-ایرانی فریم ورک کے تحت اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر سے دستبردار ہونے پر اصولی طور پر اتفاق کر لیا ہے۔
امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ برسوں سے جاری جوہری تناؤ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس معاہدے کا سب سے اہم اور مشکل پہلو ابھی طے ہونا باقی ہے کہ ایران یہ مواد عملی طور پر کس طرح حوالے کرے گا، جس کی تفصیلات مستقبل میں ہونے والے مذاکرات پر چھوڑ دی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ابتدائی طور پر ایران اس بات پر آمادہ نہیں تھا کہ وہ معاہدے کے پہلے مرحلے میں اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو شامل کرے۔ تاہم، امریکی مذاکرات کاروں نے تہران کو واضح اور دو ٹوک پیغام دیا تھا کہ اگر اس حوالے سے کوئی ٹھوس عزم ظاہر نہ کیا گیا تو امریکہ مذاکرات ترک کر کے فوجی کارروائی کا راستہ اپنانے پر مجبور ہوگا۔
موجودہ اعداد و شمار کے مطابق، ایران کے پاس تقریباً 970 پاؤنڈ (تقریباً 440 کلوگرام) یورینیم موجود ہے جسے 60 فیصد تک افزودہ کیا گیا ہے۔ اس مواد کو ٹھکانے لگانے کے لیے جو آپشنز زیرِ غور ہیں، ان میں یورینیم کے ذخائر کو ملک سے باہر منتقل کرنا اوراس مواد کو غیر مؤثر بنانے کے لیے اسے ‘ڈائلیوٹ’ (dilute) کرنا شامل ہے۔
وائٹ ہاؤس نے فی الحال اس مجوزہ معاہدے کی تفصیلات پر براہِ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ عالمی مبصرین اس پیش رفت کو ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کی ایک بڑی کوشش قرار دے رہے ہیں، جس کا انحصار اب اس بات پر ہے کہ دونوں ممالک مستقبل میں ان عملی مشکلات کو کیسے حل کرتے ہیں جو اس مواد کی منتقلی کے عمل میں حائل ہو سکتی ہیں۔
ایران امریکا نیا فریم ورک طے، آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی ، امریکی ناکہ بندی ختم، 25 ارب کے اثاثے جاری، ایٹمی معاملات پر الگ مذاکرات

