تربت(بیوروچیفبے نقاب نیوزسے)تربت میں گزشتہ شب اور جمعہ کی صبح پیش آنے والے مختلف واقعات جن میں افغان مہاجرین کے گاڈی سمیت دستی بم حملیمیں مجموعی طور پر 9 افراد زخمی ہوگئے۔ذرائع کے مطابق گزشتہ شب بنڈے بازار میں نامعلوم افراد نے پولیس اہلکار یونس ولد اسحاق کے گھر پر ہینڈ گرنیڈ سے حملہ کیا۔ حملہ آور دستی بم پھینک کر موقع سے فرار ہوگئے۔دھماکے کے باوجود کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کرلیے ہیں اور واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں دوسری جانب جمعہ کی صبح ناصر آباد کے علاقے میں نامعلوم افراد نے ایک حجام کی دکان کو دستی بم حملے کا نشانہ بنایا۔ ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے عارف ولد محمد حسین کی بند دکان کے تالے توڑ کر شٹر کھولا اور اندر دستی بم پھینک دیا جو زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔ دھماکے کے نتیجے میں دکان کو نقصان پہنچا تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔پولیس ذرائع کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں ادھر تربت کے علاقے گہنہ میں یونیورسٹی کے قریب ایک ٹریفک حادثے میں 5 خواتین سمیت ٹوٹل 13افغان باشندے زخمی ہوگئے۔پولیس ذرائع کے مطابق افغان باشندے کوئٹہ سے تربت کے راستے گوادر جا رہے تھے جہاں سے انہوں نے ایران کے راستے یورپ روانہ ہونا تھا۔تیز رفتاری کے باعث لینڈ کروزر گاڑی الٹ گئی جس کے نتیجے میں پانچ خواتین، تین بچے اور ایک مرد ڈرائیور زخمی ہوگئے۔ گاڑی میں ڈرائیور سمیت مجموعی طور پر 18 افراد سوار تھے۔ زخمیوں کو فوری طور پر ٹیچنگ اسپتال تربت منتقل کردیا گیا۔
تربت:تربت میں مختلف واقعات، دستی بم حملے اور ٹریفک حادثے میں 13افراد زخمی

