واشنگٹن/ تہران: امریکا اور ایران کے درمیان جاری شدید کشیدگی کے دوران دونوں ممالک کے سربراہان کی جانب سے انتہائی اہم اور ڈرامائی بیانات سامنے آئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکام معاہدے کے لیے مرے جا رہے ہیں لیکن آخری وقت پر شرائط بدل دیتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا سے باعزت مذاکرات کی کھل کر وکالت کر دی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ‘فارچون’ میگزین کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں ایران پر مذاکرات کے دوران دھوکہ دہی اور غیر سنجیدگی کا الزام لگایا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا:
"وہ ہر وقت چلاتے رہتے ہیں، لیکن میں آپ کو ایک بات بتا سکتا ہوں—وہ معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے مرے جا رہے ہیں۔ مگر ان کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ پہلے زبانی معاہدہ طے کرتے ہیں، اور پھر آپ کو ایک ایسا کاغذ بھیج دیتے ہیں جس کا طے شدہ شرائط سے دور دور تک کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا۔ میں حیرت سے کہتا ہوں، ‘کیا تم لوگ پاگل ہو؟'”
ٹرمپ نے موجودہ عالمی معاشی صورتحال اور شرحِ سود پر بات کرتے ہوئے یہ بھی واضح کیا کہ جب تک یہ جنگ اور تنازع ختم نہیں ہو جاتا، تب تک معاشی اعداد و شمار کا صحیح اور حتمی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔
دوسری جانب، تہران میں سرکاری تعلقاتِ عامہ (PR) کے حکام کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے روایتی ایرانی پالیسی سے ہٹ کر ایک انتہائی جرات مندانہ مؤقف اپنایا ہے۔ انہوں نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی مخالفت میں لگائے جانے والے روایتی نعروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تہران کو "باعزت طریقے سے” بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔”اگر آپ بات چیت نہیں کرنا چاہتے، تو کیا آپ ہمیشہ کے لیے لڑتے رہنا چاہتے ہیں؟”
انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں جاری مہنگائی اور افراطِ زر کی بنیادی وجہ یہ معاشی اور سیاسی جنگ ہے، اور اگر ہم لڑ رہے ہیں تو ہمیں اس کی سختیاں اور مصائب بھی کھلے دل سے قبول کرنے ہوں گے۔
ٹرمپ کا ایران پر ‘معاہدے سے مکرنے’ کا الزام، "کیا ہم ہمیشہ لڑتے رہیں گے؟” مسعود پزشکیان

