کراچی :منشیات کیس کی ملزمہ انمول عرف پنکی نے کہا جو بچے ڈرگ overdose سے مرے انہوں نے میرے پر ڈال دئیے ئے قتل کے پرچے مجھ پر ڈال دیے۔ یہ میرے بیس سال پرانے بند گھر میں بھی پہنچ گئے۔۔
میڈیا کو بیان،،، پنکی کی آواز دبانے کیلئے سندھ پولیس کی نئی حکمت عملی، پولیس اہلکار ”اوئے اوئے “ کے بلند آواز میں نعرے لگاتے رہے
رپورٹ کے مطابق ملزمہ کو جب جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبروپیش کرنے کے لیے جیل کورٹ لایا گیا تو وہاں شدید ہنگامہ آرائی دیکھی گئی۔
ملزمہ نے عدالت میں کچھ اہم اور اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات کے نام لینے کی کوشش کی، تو وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر شور مچا کر ملزمہ کی آواز کو دبا دیا، جبکہ صحافیوں کو بھی عدالتی کارروائی کی کوریج کے لیے اندر جانے سے روک دیا گیا۔
اس سے قبل جب ملزمہ کو پہلی بار پیش کیا گیا تھا تو پولیس میڈیا کو چکمہ دیتے ہوئے اسے ججز گیٹ کے راستے اندر لائی تھی، جہاں ملزمہ نے میڈیا کو دیکھ کر چیخ و پکار شروع کر دی تھی۔
ملزمہ انمول عرف پنکی نے پولیس پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے کہا تھا کہ میرے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے جا رہے ہیں، مجھے لاہور سے پکڑ کر لائے ہیں اور بیس دن سے غیر قانونی حراست میں رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا تھا کہ یہ سب کچھ ان کا سابقہ شوہر کروا رہا ہے۔
ملزمہ کا کہنا تھا کہ مجھ پر بوری بھر بھر کر منشیات ڈالی گئی تھی اور چھ آدمی مجھے گاڑی میں ڈال کر لائے، پھر پندرہ دن بعد پولیس کے حوالے کیا گیا۔ ان کے مطابق مجھ سے زور زبردستی سے سیاسی اور دیگر لوگوں کے نام کہلوائے جا رہے ہیں اور پولیس اپنی مرضی کا بیان دلوانا چاہتی ہے۔
ملزمہ نے عدالت کے باہر کھلم کھلا یہ دعویٰ بھی کیا کہ مجھے کہا جا رہا ہے بنی گالا کے بندے کا نام لو۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے میرے گھر میں پہلے سے منشیات پلان کی تھی اور مجھ سے کہا تھا کہ جب ہم آئیں گے تو آپ نے مسکرا کر دروازہ کھولنا ہے۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ مجھے دھمکی دی جا رہی ہے کہ اگر بتائے گئے نام نہ لیے تو میری فیملی کو اٹھا لیں گے اور نقصان پہنچائیں گے۔
اس دوران بھی جب خاتون پولیس اہلکار نے ملزمہ کا منہ بند کرنے کی کوشش کی تو ان کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔

