جھڈو ( رپورٹ / قیصر راجہ راجپوت )
جھڈو مین گرلز پرائمری اسکول میں زہریلا پانی پینے سے دو طالبات جاں بحق، مبینہ طور پر زہریلا پانی پینے سے دو طالبات کے جاں بحق ہونے کا افسوسناک واقعہ چند دن بعد منظر عام پر آگیا، جس نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ذرائع کے مطابق گزشتہ جمعرات کو اسکول میں تین طالبات اچانک بے ہوش ہوگئیں، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ زیر علاج طالبات میں سے دو جاں بحق ہوگئیں جبکہ ایک کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے اور اسے حیدرآباد منتقل کیا گیا ہے۔طالبات کی شناخت سلمی تالپور اور علی بخش سیال کی بیٹیوں کے طور پر ہوئی ہے۔ طالبہ حفصہ تالپور کے والدین نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی بیٹی نے اسکول کی ٹنکی سے مبینہ زہریلا پانی پیا، جس کے بعد اس کی حالت بگڑ گئی اور وہ جاں بحق ہوگئی۔واقعے میں مزید آٹھ طالبات بھی متاثر ہوئیں اور اسپتال میں داخل ہوئیں، جنہیں رورل ہیلتھ سینٹر جھڈو میں طبی امداد دی گئی۔شہری اور سماجی حلقوں نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے تعین کا مطالبہ کیا ہے۔


