کبیر والہ:(رپورٹ راؤ ناصرعلی شادابی)
ضلع خانیوال میں جنسی تشدد اور زیادتی کے جھوٹے مقدمات درج کروا کر شہریوں کو بلیک میل کرنے والے گروہ کے خلاف پولیس نے فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (DPO) خانیوال، محمد عابد کی ہدایت پر ایسے عناصر کی فہرستیں تیار کر لی گئی ہیں جو قانون کو اپنے مذموم مقاصد اور مالی مفادات کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔
ڈی پی او محمد عابد کے مطابق، اینٹی ریپ ایکٹ 2021 کے تحت ان تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا رہا ہے جنہوں نے بدنیتی پر مبنی الزامات عائد کیے۔ پولیس نے ایسے کیسز کی نشاندہی کی ہے جہاں مدعیان نے پہلے سنگین الزامات کے تحت ایف آئی آر درج کروائی۔
بعد ازاں عدالت میں جا کر مالی فوائد کے عوض اپنے بیانات تبدیل کر لیے۔پولیس تفتیش میں الزامات بے بنیاد اور جھوٹے ثابت ہوئے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلع بھر میں ایسے گروہوں کی نشاندہی کے لیے کام تیزی سے جاری ہے جو منظم طریقے سے معصوم لوگوں کو جنسی جرائم کے جھوٹے کیسز میں پھنسا کر رقم بٹورتے ہیں۔ ایسے گروہوں کی فہرستیں مرتب کی جا رہی ہیں تاکہ ان کے خلاف سخت قانونی ایکشن لے کر نشانِ عبرت بنایا جا سکے۔
اس مہم کے دوران سب سے نمایاں کارروائی تلمبہ میں دیکھنے میں آئی ہے، جہاں اب تک جھوٹے الزامات لگانے والوں کے خلاف اینٹی ریپ ایکٹ کے تحت 5 باقاعدہ مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مزید مشکوک کیسز پر کام جاری ہے اور جلد مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔
مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد معاشرے میں جھوٹے مقدمات کے بڑھتے ہوئے رجحان کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ قانون مظلوموں کی داد رسی کے لیے ہے، اسے کسی کی پگڑی اچھالنے یا بلیک میلنگ کا ذریعہ نہیں بننے دیا جائے گا۔ جھوٹی ایف آئی آر درج کروانے والے اب خود جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوں گے۔”
خانیوال میں ‘ریپ’ کے نام پر بلیک میلنگ کا دھندہ بے نقاب: جھوٹے مقدمات درج کروانے والوں کے گرد گھیرا تنگ، اینٹی ریپ ایکٹ کے تحت بڑے ایکشن کا آغاز!


