کراچی: شہرِ قائد کے پوش علاقے کلفٹن میں معمولی ٹریفک حادثے کے بعد پیدا ہونے والے تنازع نے اس وقت ہولناک رخ اختیار کر لیا جب ایک سابق پولیس افسر کے بیٹے نے اشتعال میں آکر وفاقی ادارہ برائے محصولات (FBR) کے افسر پر فائرنگ کر دی۔ ہفتوں روپوش رہنے والے مرکزی ملزم کو پولیس نے ایک مربوط آپریشن کے بعد دھر لیا ہے۔
واقعات کے مطابق، کلفٹن کی ایک مرطوب شام کو سابق پولیس افسر کے بیٹے آغا شہیر کی گاڑی ایک دوسری گاڑی سے ٹکرا گئی۔ جائے وقوعہ پر ایف بی آر کے انسپکٹر شاہ میر لاشاری بھی موجود تھے، جو اپنی دھیمی طبیعت کے لیے جانے جاتے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بحث معمولی تھی، لیکن اچانک آغا شہیر نے غصے میں آپے سے باہر ہو کر اسلحہ نکالا اور شاہ میر لاشاری پر فائرنگ کر دی، جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے، جبکہ ملزم موقع سے فرار ہونے میں کامیاب رہا۔
شکارپور سے بلوچستان تک پولیس کا تعاقب
واقعے کی نزاکت اور ملزم کے پس منظر کی وجہ سے ڈسٹرکٹ ساؤتھ پولیس نے فوری کارروائی شروع کی۔ تحقیقات کے دوران اہم موڑ اس وقت آیا ملزم کی گاڑی کراچی سے میلوں دورکارپور سے لاوارث حالت میں برآمد ہوئی۔پولیس نے سراغ لگایا کہ ملزم سندھ کی حدود عبور کر کے بلوچستان میں روپوش ہو چکا ہے۔اس دوران ملزم کو فرار میں مدد دینے والے 3 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا۔
ہفتوں کی تگ و دو اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر پولیس کو اطلاع ملی کہ ملزم مخصوص راستے سے واپسی کی کوشش کر رہا ہے۔ پولیس نے گھیرابندی کر کے آغا شہیر کو گرفتار کر لیا۔ اس کے ساتھ اس کے قریبی ساتھی نجیب اللہ کو بھی حراست میں لیا گیا ہے، جس نے واردات کے بعد گاڑی چھپانے اور شواہد مٹانے میں ملزم کی بھرپور مدد کی تھی۔
سی سی ٹی وی فوٹیج اور ملزمان سے تفتیش کے بعد یہ کیس اب منطقی انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ محض ایک معمولی ٹریفک حادثے پر کیے گئے فیصلے نے نہ صرف ایک سرکاری افسر کی زندگی خطرے میں ڈالی بلکہ ملزم کے اپنے مستقبل کو بھی تاریک کر دیا۔ پولیس کے مطابق مزید تفتیش جاری ہے تاکہ واقعے کے تمام محرکات کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے
کلفٹن روڈ ریج کا ہولناک انجام: ایف بی آر افسر پر گولیاں چلانے والا سابق ایس پی کا ‘بگڑا ہوا’ بیٹا گرفتار؛ سندھ سے بلوچستان تک طویل تعاقب کی کہانی!

