نیویارک/ واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان مذاکرات کے مکمل تعطل کا شکار ہونے کے بعد عالمی توانائی کی منڈی میں زلزلہ آ گیا ہے۔ سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس میں تین ہزار پوائنٹس سے زیادہ کی کمی ہوئی ہے۔
جمعرات کے روز تیل کی قیمتوں میں ہونے والے حالیہ اضافے نے عالمی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، کیونکہ سپلائی لائنز کی بحالی کے امکانات دم توڑتے نظر آ رہے ہیں۔عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اس وقت بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں:
برینٹ خام تیل: جون ڈیلیوری کے لیے برینٹ خام تیل کی قیمت 5.27 ڈالر (4.5%) اضافے کے ساتھ 123.30 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے۔
ڈبلیو ٹی آئی (WTI): امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت بھی 107.51 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی، جو مسلسل اضافے کے رجحان کو ظاہر کرتی ہے۔
صورتحال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز بڑی تیل کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کا ایجنڈا ایران کی بندرگاہوں پر ممکنہ امریکی ناکہ بندی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت نے سرمایہ کاروں میں یہ خوف پیدا کر دیا ہے کہ تیل کی ترسیل طویل عرصے تک معطل رہ سکتی ہے۔
عالمی توانائی کی سپلائی اس وقت شدید دباؤ میں ہے کیونکہ ایران نے خلیج سے گزرنے والی اہم بحری شاہراہوں، خاص طور پر آبنائے ہرمز سے ترسیل کو محدود کر رکھا ہے۔ ماہرین کے مطابق، موجودہ حالات میں آبنائے ہرمز کی فوری بحالی یا تنازع کا کوئی فوری حل نظر نہیں آتا۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں جمعرات کے روز مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے اور انڈیکس چار ہزار سے زیادہ پوائنٹس نیچے چلا گیا۔تاہم بعد میں کچھ بہتری آئی اور جس وقت یہ رپورٹ شائع کی جا رہی ہے انڈیکس منفی 3852 پوائنٹس پر ہے۔واضح رہے کہ گذشتہ روز بھی انڈیکس میں 2588 پوائنٹس تک کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ جیو پولیٹیکل حالات ہیں جس کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں بڑھی ہیں اور سٹاک مارکیٹ پر اس کا منفی اثر ہوا۔چونکہ آگے تین دن کا ویک اینڈ آ رہا ہے اور سرمایہ کار ان تین دنوں کی ممکنہ صورتحال کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہیں تو انھوں نے حصص فروخت کر دیے۔
اگرچہ اتوار کو اوپیک پلس ممالک کی جانب سے تیل کی پیداوار میں معمولی اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جنگی حالات اور سپلائی میں بڑی رکاوٹوں کے سامنے یہ اضافہ "اونٹ کے منہ میں زیرہ” ثابت ہوگا۔
سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اگر جنگ آج بھی ختم ہو جائے، تب بھی متحدہ عرب امارات جیسے بڑے خلیجی ممالک کو اپنی جنگ سے قبل والی پیداواری سطح پر واپس آنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قلت اور قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال کا یہ طوفان فی الحال تھمنے والا نہیں ہے۔

