منشیات کیسز کھیل بے نقاب، جیلوں کی خاموشی، ریکارڈ میں ردوبدل سے بریت تک، افسران کی ACR ماتحت کیوں لکھیں،ایس پی کی ایس ایچ او کی للکار،وجہ جان کر افسر خاموش
تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے۔ سابقہ ادوار میں راولپنڈی کا ایک بڑا سکینڈل سامنے آیا تھا، جس نے فوجداری نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا۔ عدالتی عملہ، پراسیکیوشن اور پولیس اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے مقدمات کے ریکارڈ میں ردوبدل کیا جاتا تھا۔ آلہ قتل، مالِ مقدمہ اور فردِ مقبوضگی میں ہیروئن یا آئس کی جگہ چرس لکھ کر نئی دستاویزات تیار کی جاتیں، اور یوں ملزمان عدالتوں سے بری ہو جاتے۔ بعد ازاں ڈی جی اینٹی کرپشن سہیل ظفر چھٹہ کی قیادت میں اس گھناؤنے کھیل کو بے نقاب کیا گیا، جبکہ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے سخت ایس او پیز جاری کیے کہ سنگین مقدمات میں بریت یا فوری ضمانت کی انکوائری لازمی ہوگی اور غفلت یا ملی بھگت ثابت ہونے پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ اسی تسلسل میں قصور پولیس کے حالیہ اقدامات ایک اہم پیش رفت دکھائی دیتے ہیں۔ ڈی پی او قصور آفتاب احمد پھلروان نے منشیات کے مقدمے میں ملزم کی بریت پر تحقیقات کرتے ہوئے عدالت میں غلط شہادت دینے اور بیان سے منحرف ہونے پر ایک پولیس اہلکار کو نوکری سے برخاست کر دیا۔ مزید یہ کہ پولکام میں غلط اندراج کے ذریعے ملزمان کو فائدہ پہنچانے پر دو سب انسپکٹرز کو سنشور اور دیگر اہلکاروں کو سروس ضبطگی سمیت سزائیں دی گئیں۔ یہ اقدامات محض سزائیں نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہیں کہ اب غفلت یا بددیانتی برداشت نہیں ہوگی۔ تاہم اصل سوال اس وقت سامنے آیا جب ڈی پی او قصور نے دیگر افسران کے ہمراہ ڈسٹرکٹ جیل کا دورہ کیا۔ وہاں قیدیوں کی کم تعداد دیکھ کر بظاہر یہ تاثر ملا کہ دیگر اضلاع دے ضلع قصور میں امن و امان مثالی ہے۔ مگر حقیقت اس سادہ تاثر سے مختلف ہو سکتی ہے۔ جیلوں کا خالی ہونا ہمیشہ امن کی علامت نہیں ہوتا، بلکہ سیاسی مداخلت پر مدعیوں کو ڈرا دھمکا کر بیٹھا دینا بعض اوقات یہ تفتیش، شہادت اور استغاثہ کے کمزور ہونے کی نشاندہی بھی کرتا ہے جہاں ملزمان سزاؤں کے بجائے خامیوں کا فائدہ اٹھا کر باہر آ جاتے ہیں۔ یہی نکتہ وزیر آباد کے اس واقعے سے جڑتا ہے پنجاب پولیس کے نظام میں اکثر ایسے واقعات دب جاتے ہیں جو دراصل اصلاحِ احوال کے لیے آئینہ ہوتے ہیں، مگر کبھی ایک معمولی سا واقعہ پورے ڈھانچے کی حقیقت کھول دیتا ہے۔ بھکی شیخوپورہ سرکل کے ایک تھانے میں ایسا ہی ہوا، جب ایک ایس ایچ او نے ایک ملزم گرفتار کیا اور فوراً ایک دوسرے سرکل کے ڈی ایس پی کی کال آ گئی “یہ میرا آدمی ہے، اسے چھوڑ دیں۔” جواب غیر معمولی تھا
“اگر یہی بات کوئی کانسٹیبل یا سوئیپر کہتا تو شاید چھوڑ دیتا، مگر اب جب آپ کہہ رہے ہیں تو کسی قیمت پر نہیں چھوڑوں گا۔ یہ صرف انکار نہیں تھا، بلکہ اس سوچ کے خلاف اعلان تھا جو اختیار کو قانون سے بالا سمجھتی ہے۔ دباؤ بڑھا، مگر ایس ایچ او نہ جھکا۔ پھر ماضی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ 2006 کی وہ انکوائری یاد دلائی گئی جب اسی افسر پر ایک منشیات فروش کے حق میں جانبداری کا الزام لگا تھا۔ یہ سنتے ہی کال خاموشی میں بدل گئی۔
وہی افسر آج ترقی پا کر ایس پی کے عہدے پر لاہور میں فائز ہے تو کیا ہمارے نظام میں ترقی کا معیار واقعی کردار اور دیانت داری ہے؟ اگر نہیں، تو پھر “یس سر کلچر” کیوں نہ پنپے؟
حقیقت یہ ہے کہ کسی افسر کا اصل چہرہ اس کے ماتحت جانتے ہیں اس لئے افسر کی اے سی آر انکے ماتحت افسران لکھیں تو حقیقت سامنے آجائے۔ سچ وقتی طور پر دب سکتا ہے، مگر مٹتا نہیں کبھی ایک انکار بن کر، کبھی ایک خاموشی بن کر سامنے آ جاتا ہے۔ ادارے قوانین سے نہیں، کردار سے مضبوط ہوتے ہیں۔ جب تک ایماندار افسران کو سہارا نہیں ملے گا، انصاف کاغذوں تک محدود اور اختیار ذاتی مفادات کا ہتھیار بنتا رہے گا۔