لندن + ریاض :27 اپریل 2026 پیر کو عالمی تیل مارکیٹ میں ہلچل مچ گئی۔ برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں دو فیصد کا زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس تیزی کے پیچھے بنیادی محرک امریکااور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حال ہی میں مجوزہ امن مذاکرات میں ناکامی کے بعد دوسرے مرحلے میں تاخیر ہے۔
پیر کو بینچ مارک آئی سی ای برینٹ کروڈ فیوچر بین الاقوامی مارکیٹ میں تقریباً دو فیصد بڑھ کر 107.28 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ دریں اثنا، یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) بھی 1.5 فیصد اضافے کے ساتھ 95.78 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر کشیدگی موجودہ سطح پر برقرار رہی تو تیل کی قیمتیں جلد ہی 110 ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کے روز کہا کہ واشنگٹن نے ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات کے لیے پاکستان بھیجے جانے والے وفد کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔
ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے عالمی توانائی کی فراہمی شدید دباؤ کا شکار ہے، کیونکہ ایران کی جانب سے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے ردعمل میں نہ صرف آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے بلکہ اس اہم تجارتی آبی گُزر گاہ سے آنے اور جانے والے مال بردار بحری جہازوں پر حملوں کی دھمکی بھی دے رکھی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اس اضافے کا ایک اہم عنصر آبنائے ہرمز کے اندر رکاوٹوں کا امکان ہے جو دنیا کا سب سے اہم تیل کی ترسیل کا راستہ ہے۔ ایران کے امریکی گھیراؤ اور ایران کی جوابی دھمکیوں کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں خلل پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکانے ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو تقریباً مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں ہلچل، برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں 2 فیصد کا زبردست اضافہ

