تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

مزید برآں ایک اورخطرناک رجحان سامنے آیا ہے کہ سی سی ڈی سے پولیس مقابلوں میں مارے جانے والے جرائم پیشہ افراد کو ماضی کے حل طلب مقدمات سے جوڑ کر کیس بند کر دینا۔ اس عمل سے وقتی طور پر کیسز بند تو ہو جاتے ہیں، مگر متاثرہ فریق اپنی ریکوری سے محروم رہتا ہے۔ ڈیفنس میں 19 کروڑ کی واردات کا کیس اس کی واضح مثال ہے، جہاں ایک مبینہ ملزم کے ہلاک ہونے کے باوجود مدعی کو آج تک انصاف اور ریکوری نہیں مل سکی۔ یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسا “خاموش بحران” تشکیل دیتے ہیں جہاں جرائم کے اعداد و شمار بظاہر قابو میں دکھائے جاتے ہیں، مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیف سٹی جیسے جدید منصوبوں کے باوجود سڑکوں پر عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کا سخت نوٹس اور ہنگامی اجلاس اس امر کا ثبوت ہے کہ مسئلے کی سنگینی کو اعلیٰ سطح پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔ ان کی جانب سے پولیس افسران کی سرزنش، پیشگی اقدامات پر زور، اور سی سی ڈی کے ساتھ مکمل تعاون کی ہدایات یہ سب درست سمت میں اقدامات ہیں، کیا یہ وقتی ردِعمل ہوگا یا مستقل اصلاحات کی بنیاد بنے گا؟ حقیقی بہتری کے لیے چند بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ KPI نظام کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے تاکہ “مقدار” کے بجائے “معیارِ انصاف” کو ترجیح دی جائے۔ پولیس اور سی سی ڈی کے درمیان واضح اختیارات اور مؤثر کوآرڈینیشن کا فریم ورک تشکیل دیا جائے. ہر مقدمے کی آزادانہ آڈٹ اور نگرانی کا نظام متعارف کروایا جائے تاکہ غلط چالان اور جعلی کارکردگی کا سدباب ہو سکے۔ متاثرہ شہری کو انصاف کے ساتھ ساتھ بروقت ریکوری کی ضمانت دی جائے، جو فی الوقت سب سے بڑا خلا ہے۔
ریاست کی ذمہ داری صرف جرائم کے اعداد و شمار کم دکھانا نہیں بلکہ شہری کو حقیقی تحفظ اور انصاف فراہم کرنا ہے۔اگر کارکردگی کے نام پر سچ کو مسخ کیا جاتا رہا تو نہ صرف اداروں پر عوامی اعتماد ختم ہوگا بلکہ جرائم پیشہ عناصر مزید مضبوط ہوں گے۔
پنجاب اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے یا تو اصلاحات کے ذریعے نظام کو درست کر لیا جائے، یا پھر “کاغذی کامیابی” کے بوجھ تلے حقیقی ناکامی کو چھپانے کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ فیصلہ اب پالیسی سازوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھ میں ہے

