Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      مصنوعی ذہانت، نظریہ اور منافع—اوپن اے آئی تنازع اور پاکستان کا مستقبل

      حکومتی بابوؤں کا نیا ‘صدری نسخہ’: مڈل کلاس کو نچوڑنے کا منصوبہ، کیا اب بجلی کا بل تنخواہ دیکھ کر آئے گا؟

      مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے دنیا بدل دی: مہنگے میزائلوں کا دور ختم؟ فرانس کا ڈرونز کو کچلنے کے لیے نیا ‘سستا اور قاتل’ ہتھیار تیار!

      بیجنگ آٹو شو 2026:چیری نے 1500 کلومیٹر رینج والی طاقتور ‘Tiggo X’ لانچ کردی، بی وائی ڈی کے لیے خطرے کی گھنٹی

      واٹس ایپ کا نقشہ بدل گیا: 2013 کے بعد سب سے بڑی تبدیلی کا اعلان، نئے ‘فیچرز’ نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

      خارگ جزیرے پر ممکنہ امریکی حملہ ، لیگو ویڈیو جاری

      بیانئے کی جنگ میں ٹیکنالوجی کا استعمال

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    پنجاب جرائم بڑھنے کی اصل وجہ بے نقاب، KPI کے کھیل میں انصاف قتل

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
    پنجاب میں جرائم کی شرح میں حالیہ اضافہ وقتی لہر نہیں بلکہ ایک گہرے انتظامی خلل کی علامت ہے۔ بظاہر وسائل کی کمی کا جواز بھی اب باقی نہیں رہا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے دو برس میں پنجاب پولیس کو 527 ارب روپے کا غیر معمولی بجٹ، جدید اسلحہ، گاڑیاں اور ٹیکنالوجی کی فراہمی اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ریاست نے اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں بخل نہیں کیا۔ پھر ناکامی کہاں پیدا ہو رہی ہے؟ جو حقائق سامنے آ رہے ہیں، وہ ایک نہایت تشویشناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ بے نقاب کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پنجاب پولیس کی کارکردگی کے پیمانوں (KPI) کو بہتر دکھانے کی دوڑ میں انصاف کا بنیادی اصول پسِ پشت ڈال دیا گیا۔ مقدمات کو جلد نمٹانے اور نمبرز بڑھانے کی خاطر ایسے افراد کو چالان کر دینا جن کا جرم سے کوئی تعلق ہی نہیں یہ صرف بدانتظامی نہیں، بلکہ انصاف کے نظام پر براہِ راست حملہ ہے ۔ اس طرزِ عمل نے نہ صرف بے گناہ شہریوں کو اذیت میں مبتلا کیا بلکہ اصل مجرموں کو کھلی چھوٹ دے دی۔ دوسری پنجاب پولیس اور سی سی ڈی کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان بھی جرائم کے سدباب میں بڑی رکاوٹ بن کر ابھرا ہے۔ جب سی سی ڈی کسی سنگین واردات کے اصل ملزمان کو گرفتار کر کے ریکوری کرتی ہے تو متعلقہ تھانے پہلے ہی “کاغذی کامیابی” حاصل کر چکے ہوتے ہیں اور ان کیسوں میں ملزمان چالان بلکہ ضمانت پر باہر بھی آچکے ہوتے ہیں ۔ نتیجتاً اصل ملزمان قانون کی گرفت سے باہر رہتے ہیں اور ادارہ جاتی ساکھ بچانے کی جنگ، انصاف کی فراہمی پر غالب آ جاتی ہے۔
    مزید برآں ایک اورخطرناک رجحان سامنے آیا ہے کہ سی سی ڈی سے پولیس مقابلوں میں مارے جانے والے جرائم پیشہ افراد کو ماضی کے حل طلب مقدمات سے جوڑ کر کیس بند کر دینا۔ اس عمل سے وقتی طور پر کیسز بند تو ہو جاتے ہیں، مگر متاثرہ فریق اپنی ریکوری سے محروم رہتا ہے۔ ڈیفنس میں 19 کروڑ کی واردات کا کیس اس کی واضح مثال ہے، جہاں ایک مبینہ ملزم کے ہلاک ہونے کے باوجود مدعی کو آج تک انصاف اور ریکوری نہیں مل سکی۔ یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسا “خاموش بحران” تشکیل دیتے ہیں جہاں جرائم کے اعداد و شمار بظاہر قابو میں دکھائے جاتے ہیں، مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیف سٹی جیسے جدید منصوبوں کے باوجود سڑکوں پر عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کا سخت نوٹس اور ہنگامی اجلاس اس امر کا ثبوت ہے کہ مسئلے کی سنگینی کو اعلیٰ سطح پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔ ان کی جانب سے پولیس افسران کی سرزنش، پیشگی اقدامات پر زور، اور سی سی ڈی کے ساتھ مکمل تعاون کی ہدایات یہ سب درست سمت میں اقدامات ہیں، کیا یہ وقتی ردِعمل ہوگا یا مستقل اصلاحات کی بنیاد بنے گا؟ حقیقی بہتری کے لیے چند بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ KPI نظام کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے تاکہ “مقدار” کے بجائے “معیارِ انصاف” کو ترجیح دی جائے۔ پولیس اور سی سی ڈی کے درمیان واضح اختیارات اور مؤثر کوآرڈینیشن کا فریم ورک تشکیل دیا جائے. ہر مقدمے کی آزادانہ آڈٹ اور نگرانی کا نظام متعارف کروایا جائے تاکہ غلط چالان اور جعلی کارکردگی کا سدباب ہو سکے۔ متاثرہ شہری کو انصاف کے ساتھ ساتھ بروقت ریکوری کی ضمانت دی جائے، جو فی الوقت سب سے بڑا خلا ہے۔
    ریاست کی ذمہ داری صرف جرائم کے اعداد و شمار کم دکھانا نہیں بلکہ شہری کو حقیقی تحفظ اور انصاف فراہم کرنا ہے۔اگر کارکردگی کے نام پر سچ کو مسخ کیا جاتا رہا تو نہ صرف اداروں پر عوامی اعتماد ختم ہوگا بلکہ جرائم پیشہ عناصر مزید مضبوط ہوں گے۔
    پنجاب اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے یا تو اصلاحات کے ذریعے نظام کو درست کر لیا جائے، یا پھر “کاغذی کامیابی” کے بوجھ تلے حقیقی ناکامی کو چھپانے کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ فیصلہ اب پالیسی سازوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھ میں ہے

    Related Posts

    ہائی کورٹ نے خواجہ سراؤں کا ’مبارکبادی‘ اور ’نیگ‘ مانگنا غیر قانونی قرار دے دیا، زبردستی وصولی پر جیل کی سزا

    میں وارث ہوں، بھائی مردہ بہن کی ہڈیاں لے کر بنک پہنچ گیا

    اسلام آباد یونائیٹڈ کو شکست،کنگ بابر کی سنچری، پشاور زلمی فائنل میں پہنچ گئی

    مقبول خبریں

    ہائی کورٹ نے خواجہ سراؤں کا ’مبارکبادی‘ اور ’نیگ‘ مانگنا غیر قانونی قرار دے دیا، زبردستی وصولی پر جیل کی سزا

    میں وارث ہوں، بھائی مردہ بہن کی ہڈیاں لے کر بنک پہنچ گیا

    اسلام آباد یونائیٹڈ کو شکست،کنگ بابر کی سنچری، پشاور زلمی فائنل میں پہنچ گئی

    تیل کی قیمتوں کو آگ لگ گئی: عالمی معیشت وینٹی لیٹر پر، مہنگائی کا طوفان ‘کساد بازاری’ دستک دینے لگی!

    ٹرمپ سے ناراض امریکی عوام، مقبولیت میں مزید کمی

    بلاگ

    خطرات کا گٹھ جوڑ — پاکستان ایک پوشیدہ جنگ میں

    عالمی طوفان اٹھ رہا ہے — پاکستان کا اگلا قدم کیا ہو؟

    سولر لائسنسنگ کا خاتمہ: عوامی ریلیف یا محض ایک سیاسی یوٹرن؟

    منشیات کیسز کھیل بے نقاب، جیلوں کی خاموشی، ریکارڈ میں ردوبدل سے بریت تک، افسران کی ACR ماتحت کیوں لکھیں،ایس پی کی ایس ایچ او کی للکار،وجہ جان کر افسر خاموش

    پنجاب جرائم بڑھنے کی اصل وجہ بے نقاب، KPI کے کھیل میں انصاف قتل

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.