!
لکھنؤ: الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے ایک تاریخی حکم نامے میں واضح کر دیا ہے کہ خواجہ سرا برادری کو خوشی کے مواقع پر روایتی ’مبارکبادی‘ یا ’نیگ‘ (نقد رقم اور تحائف) مانگنے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں ہے۔ عدالت نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے مطالبات کرنا یا زبردستی رقم وصول کرنا بھارتیہ نیائے سہنتا (BNS) کے تحت سنگین جرم تصور کیا جائے گا۔
یہ حکم جسٹس آلوک ماتھور اور جسٹس امیتابھ کمار رائے پر مشتمل بنچ نے گونڈا ضلع سے تعلق رکھنے والی ایک خواجہ سرا ’ریکھا دیوی‘ کی رٹ پٹیشن پر سماعت کے دوران دیا۔
ریکھا دیوی نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ قصبہ جرول کے ’کاٹی کا پل‘ سے ’گھاگھرا گھاٹ‘ اور کرنیل گنج کے ’سریو پل‘ تک کا علاقہ اس کے لیے مخصوص (Reserve) کیا جائے تاکہ وہ وہاں سے بلا روک ٹوک ’نیگ‘ وصول کر سکے۔
درخواست گزار کے وکیل نے دلیل دی کہ یہ ایک دیرینہ روایت ہے جو اب ایک ’روایتی حق‘ بن چکی ہے، اور علاقہ مخصوص نہ ہونے کی وجہ سے برادری کے دیگر گروہوں کے ساتھ اکثر جھگڑے ہوتے رہتے ہیں۔
ہائیکورٹ نے درخواست کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ کوئی بھی ٹیکس، لیوی یا فیس صرف قانون کے تحت ہی وصول کی جا سکتی ہے۔ ’مبارکبادی‘ یا ’ججمانی‘ کے نام پر پیسے لینے کی روایت کو قانون کی کوئی چھتری حاصل نہیں ہے۔
بنچ نے واضح کیا کہ کسی بھی شہری کو ایسی رقم ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا جو قانوناً جائز نہ ہو۔ ایسی وصولی کو قانونی شکل دینے کا مطلب ’مجرمانہ سرگرمیوں‘ کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگا۔
ایکٹ 2019 کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے ریمارکس دیے کہ ’خواجہ سرا شخص (تحفظ برائے حقوق) ایکٹ 2019‘ میں بھی اس طرح کے کسی حق کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر کوئی بھی شخص زبردستی یا کسی بھی طریقے سے رقم وصول کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو اس کے خلاف بھارتیہ نیائے سہنتا کی متعلقہ دفعات کے تحت کارروائی کی جائے گی اور سزا کا بندوبست نافذ ہوگا۔
: عدالت کے اس فیصلے کے بعد اب روایتی طور پر گلی محلوں میں ’نیگ‘ مانگنے کے عمل پر قانونی گرفت سخت ہونے کا امکان ہے، کیونکہ اسے اب ”غیر قانونی وصولی“ کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔
ہائی کورٹ نے خواجہ سراؤں کا ’مبارکبادی‘ اور ’نیگ‘ مانگنا غیر قانونی قرار دے دیا، زبردستی وصولی پر جیل کی سزا

