ریاض+لندن+نیویارک: مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور امریکا و ایران کے درمیان مذاکرات کی ناکامی نے عالمی منڈیوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے، جس کے باعث عالمی معیشت پر کساد بازاری (Recession) کے گہرے بادل چھا گئے ہیں۔ بدھ کی صبح ایشیائی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں زبردست تیزی دیکھی گئی، جس سے مہنگائی کا ایک ایسا سیلاب آنے کا خدشہ ہے جو ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
عالمی بینچ مارک برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں مسلسل آٹھویں روز اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں قیمت 52 سینٹ اضافے کے ساتھ 111.78 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) بھی 57 سینٹ کے اضافے کے ساتھ 100.50 ڈالر کی سطح عبور کر چکا ہے، جو گزشتہ آٹھ دنوں میں ساتویں مرتبہ اضافہ ہے۔
امریکی جریدے ‘نیویارک ٹائمز’ کے مطابق، امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں جنگ کے آغاز کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ منگل 28 اپریل کو پیٹرول کی اوسط قیمت 4 ڈالر 18 سینٹ فی گیلن ریکارڈ کی گئی ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ ایران پر امریکی فوجی حملے کے بعد سے اب تک امریکا میں ایندھن کی قیمتوں میں 40 فیصد تک کا ہوش رُبا اضافہ ہو چکا ہے، جس نے صارفین کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
قیمتوں میں اس حالیہ اضافے کی بنیادی وجہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وہ ہدایات ہیں جن کے تحت ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایران کی تیل کی برآمدات کو روک کر اس کی معیشت پر دباؤ ڈالنا ہے، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے مشرقِ وسطیٰ جیسے اہم پیداواری خطے سے عالمی سپلائی میں طویل تعطل پیدا ہوگا جو عالمی معیشت کو لے ڈوبے گا۔
امریکی پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ نے خبردار کیا ہے کہ امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں مسلسل دوسرے ہفتے کمی آئی ہے:
خام تیل: 1.79 ملین بیرل کی کمی۔
پیٹرول: 8.47 ملین بیرل کی کمی۔
ڈسٹلیٹ: 2.60 ملین بیرل کی کمی۔
تیل کی قیمتوں میں یہ بے لگام اضافہ عالمی سطح پر مہنگائی (Inflation) کو ایسی سطح پر لے جائے گا جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوگی۔ سپلائی کی کمی اور بڑھتی ہوئی قیمتیں اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ عالمی معیشت "کساد بازاری” کے دہانے پر کھڑی ہے، جو کسی بھی وقت بڑے مالیاتی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
تیل کی قیمتوں کو آگ لگ گئی: عالمی معیشت وینٹی لیٹر پر، مہنگائی کا طوفان ‘کساد بازاری’ دستک دینے لگی!

