وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے منگل کو صومالیہ کی حکومت سے سمندری جہاز ’اونر 25‘ پر موجود پاکستانی عملے کی بحفاظت بازیابی کے لیے فوری تعاون کی اپیل کی ہے۔
21 اپریل کو صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں کی جانب سے ’آنر 25‘ نامی آئل ٹینکر کو یرغمال بنانے کی خبریں سامنے آئی تھیں، جس میں 11 پاکستانی بھی سوار تھے۔
سوشل میڈیا پر ان افراد کے اہل خانہ کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیوز اور وائس نوٹس میں یرغمال بنائے گئے افراد کی حالت سے متعلق تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے ان کی بازیابی میں مدد کی اپیل کی گئی ہے۔
منگل کو وزارت بحری امور کی جانب سے صومالیہ کے سفیر شیخ نور محمد حسن کو ارسال کیے گئے خط میں کہا گیا کہ یہ ’جہاز صومالیہ کے ساحلی پانیوں میں مبینہ طور پر قزاقی حملے کا نشانہ بنا ہے، جس کے باعث جہاز پر موجود پاکستانی عملے کی سلامتی اور بہبود کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے۔‘
خط میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے صومالیہ کی حکومت سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ حکام کے ساتھ رابطہ کر کے پاکستانی عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے اور ان کی محفوظ واپسی کے لیے اقدامات کرے۔
وزارت بحری امور نے اپنے پیغام میں پاکستان اور صومالیہ کے درمیان خوشگوار تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ’صومالیہ اس انسانی ہمدردی کے معاملے میں مکمل تعاون فراہم کرے گا۔‘
خط میں اس معاملے پر فوری توجہ دینے کی بھی درخواست کی گئی اور کہا گیا ہے کہ پاکستانی عملے کی بحفاظت رہائی حکومتِ پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔
صومالیہ میں بحری قزاقوں کے ہاتھوں مغوی پاکستانی عملے کی بازیابی کیلئے پاکستان کا خط

