لاہور:لاہور سمیت تمام بڑے شہروں میں لین اور لائن کی پابندی یقینی بنانے کا ہدف،لاہور کو ٹریفک میں ماڈل بنانے کا فیصلہ،زگ زیگ کرنے والوں کی بائیک 3 دن بند رہے گی،ناجائز پارکنگ ختم کریں،کم عمر ڈرائیورنگ کی روک تھام کا حکم دے دیا گیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لاہور سمیت تمام بڑے شہروں کی سڑکوں کو منظم بنانے کے لیے ایک بڑا ہدف مقرر کر دیا ہے۔ اب وفاقی دارالحکومت کے طرز پر لاہور کی بڑی سڑکوں کو ‘ماڈل روڈز’ بنایا جائے گا، جہاں قانون کی خلاف ورزی پر ‘زیرو ٹالرنس’ پالیسی اپنائی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے خاص طور پر منچلے موٹرسائیکل سواروں کے لیے وارننگ جاری کی ہے۔ اگر کوئی موٹرسائیکل سوار سڑک پر زگ زیگ (Zig-Zag) طریقے سے ڈرائیونگ کرتا پکڑا گیا، تو اس کی موٹرسائیکل کم از کم تین دن کے لیے تھانے میں بند رہے گی۔ مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ سڑکوں پر بدنظمی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
ٹریفک قوانین کی پاسداری یقینی بنانے کے لیے اب صرف وارڈن ہی نہیں بلکہ ٹیکنالوجی بھی پہرہ دے گی:
موبائل کیمرے: ٹریفک پولیس کی موبائل گاڑیوں پر لگے کیمروں کے ذریعے ‘لین اور لائن’ کی خلاف ورزی کرنے والوں کی کڑی نگرانی کی جائے گی۔
ناجائز پارکنگ کا خاتمہ: سڑکوں کے اطراف غیر قانونی پارکنگ اور ون وے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دی گئی ہے۔
کم عمر ڈرائیونگ پر کریک ڈاؤن: وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ حادثات سے بچنے کے لیے چھوٹے بڑے روڈز پر کم عمر ڈرائیورز کی روک تھام بے حد ضروری ہے۔
ایک خصوصی اجلاس کے دوران سی ٹی او لاہور نے وزیراعلیٰ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران ٹریفک پولیس نے 5 لاکھ سے زائد چالان کیے اور ایک لاکھ سے زائد گاڑیاں قبضے میں لی گئیں۔ وزیراعلیٰ نے سی ٹی او لاہور کو شہر کی ٹریفک کی صورتحال میں فوری اور واضح بہتری لانے کا ٹارگٹ دے دیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ کارروائی سے قبل عوام کو ‘لین اور لائن’ ڈسپلن سے متعلق بھرپور آگاہی دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں ٹریفک کا غیر منظم رجحان تشویشناک ہے اور اسے فوری طور پر سدھارنا حکومت کی اولین ترجیح ہے

