Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      مصنوعی ذہانت، نظریہ اور منافع—اوپن اے آئی تنازع اور پاکستان کا مستقبل

      حکومتی بابوؤں کا نیا ‘صدری نسخہ’: مڈل کلاس کو نچوڑنے کا منصوبہ، کیا اب بجلی کا بل تنخواہ دیکھ کر آئے گا؟

      مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے دنیا بدل دی: مہنگے میزائلوں کا دور ختم؟ فرانس کا ڈرونز کو کچلنے کے لیے نیا ‘سستا اور قاتل’ ہتھیار تیار!

      بیجنگ آٹو شو 2026:چیری نے 1500 کلومیٹر رینج والی طاقتور ‘Tiggo X’ لانچ کردی، بی وائی ڈی کے لیے خطرے کی گھنٹی

      واٹس ایپ کا نقشہ بدل گیا: 2013 کے بعد سب سے بڑی تبدیلی کا اعلان، نئے ‘فیچرز’ نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

      خارگ جزیرے پر ممکنہ امریکی حملہ ، لیگو ویڈیو جاری

      بیانئے کی جنگ میں ٹیکنالوجی کا استعمال

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    معیارِ تعلیم کے معمار: پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:ڈاکٹر محمد داؤد
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے۔
    پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور ادارہ جاتی اصلاحات کے تناظر میں اگر کسی نام کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے تو وہ پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر کا ہے، جو اس وقت چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) پاکستان کے منصب پر فائز ہیں۔ 15 جون 1960 کو ڈیرہ غازی خان کے علاقے بستی ڈوسہ میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے اپنی ابتدائی تعلیم پاکستان میں حاصل کی اور بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے کیمیکل انجینئرنگ میں بیچلر اور ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کیں، جبکہ انہوں نے 1995 میں یونیورسٹی آف لیڈز (برطانیہ) سے کیمیکل انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی مکمل کی ان کا تعلیمی سفر اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بین الاقوامی معیار کی تعلیم کس طرح ایک فرد کو قومی سطح پر قیادت کے قابل بناتی ہے۔
    ڈاکٹر نیاز احمد اختر کا کیریئر نہایت متنوع اور غیر معمولی طور پر بھرپور رہا ہے۔ انہوں نے 1988 میں پنجاب یونیورسٹی میں لیکچرار کی حیثیت سے تدریسی سفر کا آغاز کیا اور بتدریج پاکستان کے متعدد بڑے تعلیمی اداروں کی قیادت کی۔ وہ یونیورسٹی آف دی پنجاب، قائداعظم یونیورسٹی، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ٹیکسلا، انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی لاہور، یونیورسٹی آف ساہیوال اور نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر رہ چکے ہیں ایک ہی شخصیت کا اتنے مختلف اداروں کی قیادت کرنا اس بات کی علامت ہے کہ ان میں انتظامی صلاحیت، وژن اور تعلیمی اصلاحات نافذ کرنے کی غیر معمولی اہلیت موجود ہے۔
    ان کی خدمات کا ایک نہایت اہم اور دیرپا پہلو پنجاب یونیورسٹی میں "ڈیپارٹمنٹ آف کوالٹی مینجمنٹ” کے قیام سے متعلق ہے، جو پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کی ایک منفرد اور pioneering کوشش تھی۔ ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے نہ صرف اس شعبے کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا بلکہ کوالٹی ایشورنس کے تصور کو ایک باقاعدہ تعلیمی اور تحقیقی ڈسپلن کی حیثیت دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اسی تسلسل میں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی میں "MS in Total Quality Management” پروگرام کا آغاز بھی کیا، جو پاکستان میں کوالٹی مینجمنٹ کی اعلیٰ سطحی تعلیم کو متعارف کرانے کی ایک اہم پیش رفت تھی۔ اس پروگرام نے نہ صرف اکیڈمک سطح پر معیار کے تصور کو مضبوط کیا بلکہ صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان ایک مؤثر پل بھی قائم کیا، جس سے کوالٹی کلچر کے فروغ میں نمایاں مدد ملی
    بطور وائس چانسلر ان کی کارکردگی خاص طور پر نمایاں رہی، جہاں انہوں نے تعلیمی معیار کی بہتری، تحقیق کے فروغ اور ادارہ جاتی نظم و ضبط میں اصلاحات متعارف کروائیں۔ پنجاب یونیورسٹی میں ان کے دور میں معیارِ تعلیم اور عالمی درجہ بندی میں بہتری دیکھی گئی، جبکہ قائداعظم یونیورسٹی میں انہوں نے تحقیقی ماحول کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کیے ان کی قیادت کا ایک اہم پہلو "Merit-based governance” یعنی میرٹ پر مبنی نظام کا فروغ ہے، جو پاکستان کے تعلیمی اداروں کے لیے ایک بنیادی ضرورت سمجھا جاتا ہے۔
    تحقیقی میدان میں بھی ڈاکٹر نیاز احمد اختر کا کردار قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم میں کوالٹی ایشورنس کے موضوع پر چار کتابیں تصنیف و تالیف کیں اور متعدد تحقیقی جرائد میں مقالات شائع کیے۔ وہ Journal of Quality & Technology Management کے چیف ایڈیٹر بھی رہے، جس سے ان کی علمی گہرائی اور تحقیق سے وابستگی کا اندازہ ہوتا ہے پاکستان میں کوالٹی انہانسمنٹ سیلز (QEC) کے قیام اور فروغ میں بھی ان کا کردار اہم رہا، جو آج ہر یونیورسٹی کے نظام کا لازمی حصہ ہیں۔
    ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں 2015 میں ستارہ امتیاز سے نوازا، جو ملک کا ایک اعلیٰ سول اعزاز ہے یہ اعزاز نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی بلکہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ان کی خدمات کا اعتراف بھی ہے۔
    بطور چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ان کی تقرری ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ پاکستان اس وقت اعلیٰ تعلیم کے میدان میں کئی چیلنجز سے دوچار ہے، جن میں فنڈنگ، معیار، تحقیق کی کمی اور عالمی مسابقت شامل ہیں۔ ڈاکٹر نیاز احمد اختر کی قیادت سے یہ امید وابستہ کی جا رہی ہے کہ وہ اپنی سابقہ تجربات کی بنیاد پر نہ صرف تعلیمی معیار کو بہتر بنائیں گے بلکہ پاکستان کو عالمی علمی نقشے پر مزید نمایاں مقام دلائیں گے
    میری رائے میں ڈاکٹر نیاز احمد اختر کی شخصیت پاکستان کے تعلیمی نظام کے لیے ایک "اصلاحی ماڈل” کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے نہ صرف تدریس اور تحقیق میں اپنا مقام بنایا بلکہ انتظامی سطح پر بھی ایک مضبوط اور وژنری قیادت فراہم کی۔ خصوصاً پنجاب یونیورسٹی میں کوالٹی مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے قیام اور MS in Total Quality Management جیسے پروگرامز کا آغاز اس بات کی دلیل ہیں کہ وہ محض پالیسی ساز نہیں بلکہ عملی اصلاحات نافذ کرنے والے رہنما بھی ہیں۔ تاہم، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ HEC جیسے ادارے کی کامیابی صرف ایک فرد پر منحصر نہیں بلکہ حکومتی پالیسی، مالی وسائل اور ادارہ جاتی خودمختاری بھی equally اہم عوامل ہیں۔ اگر ڈاکٹر نیاز احمد اختر کو مکمل اختیارات اور وسائل فراہم کیے جائیں تو وہ پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام میں حقیقی تبدیلی لا سکتے ہیں۔
    آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ڈاکٹر نیاز احمد اختر کا کیریئر نوجوانوں، اساتذہ اور پالیسی سازوں کے لیے ایک مثال ہے کہ کس طرح علم، محنت اور وژن کے ذریعے قومی سطح پر اثر ڈالا جا سکتا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں ایسے تعلیمی رہنماؤں کی اشد ضرورت ہے جو نہ صرف مسائل کو سمجھیں بلکہ ان کا عملی حل بھی پیش کریں۔

    Related Posts

    تیل کی قیمتوں کو آگ لگ گئی: عالمی معیشت وینٹی لیٹر پر، مہنگائی کا طوفان ‘کساد بازاری’ دستک دینے لگی!

    صومالیہ میں بحری قزاقوں کے ہاتھوں مغوی پاکستانی عملے کی بازیابی کیلئے پاکستان کا خط

    پاکستان کا فتح 11 میزائل کا کامیاب تجربہ

    مقبول خبریں

    ہائی کورٹ نے خواجہ سراؤں کا ’مبارکبادی‘ اور ’نیگ‘ مانگنا غیر قانونی قرار دے دیا، زبردستی وصولی پر جیل کی سزا

    میں وارث ہوں، بھائی مردہ بہن کی ہڈیاں لے کر بنک پہنچ گیا

    اسلام آباد یونائیٹڈ کو شکست،کنگ بابر کی سنچری، پشاور زلمی فائنل میں پہنچ گئی

    تیل کی قیمتوں کو آگ لگ گئی: عالمی معیشت وینٹی لیٹر پر، مہنگائی کا طوفان ‘کساد بازاری’ دستک دینے لگی!

    ٹرمپ سے ناراض امریکی عوام، مقبولیت میں مزید کمی

    بلاگ

    خطرات کا گٹھ جوڑ — پاکستان ایک پوشیدہ جنگ میں

    عالمی طوفان اٹھ رہا ہے — پاکستان کا اگلا قدم کیا ہو؟

    سولر لائسنسنگ کا خاتمہ: عوامی ریلیف یا محض ایک سیاسی یوٹرن؟

    منشیات کیسز کھیل بے نقاب، جیلوں کی خاموشی، ریکارڈ میں ردوبدل سے بریت تک، افسران کی ACR ماتحت کیوں لکھیں،ایس پی کی ایس ایچ او کی للکار،وجہ جان کر افسر خاموش

    پنجاب جرائم بڑھنے کی اصل وجہ بے نقاب، KPI کے کھیل میں انصاف قتل

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.