تحریر:ڈاکٹر محمد داؤد
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے۔

ڈاکٹر نیاز احمد اختر کا کیریئر نہایت متنوع اور غیر معمولی طور پر بھرپور رہا ہے۔ انہوں نے 1988 میں پنجاب یونیورسٹی میں لیکچرار کی حیثیت سے تدریسی سفر کا آغاز کیا اور بتدریج پاکستان کے متعدد بڑے تعلیمی اداروں کی قیادت کی۔ وہ یونیورسٹی آف دی پنجاب، قائداعظم یونیورسٹی، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ٹیکسلا، انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی لاہور، یونیورسٹی آف ساہیوال اور نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر رہ چکے ہیں ایک ہی شخصیت کا اتنے مختلف اداروں کی قیادت کرنا اس بات کی علامت ہے کہ ان میں انتظامی صلاحیت، وژن اور تعلیمی اصلاحات نافذ کرنے کی غیر معمولی اہلیت موجود ہے۔
ان کی خدمات کا ایک نہایت اہم اور دیرپا پہلو پنجاب یونیورسٹی میں "ڈیپارٹمنٹ آف کوالٹی مینجمنٹ” کے قیام سے متعلق ہے، جو پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کی ایک منفرد اور pioneering کوشش تھی۔ ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے نہ صرف اس شعبے کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا بلکہ کوالٹی ایشورنس کے تصور کو ایک باقاعدہ تعلیمی اور تحقیقی ڈسپلن کی حیثیت دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اسی تسلسل میں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی میں "MS in Total Quality Management” پروگرام کا آغاز بھی کیا، جو پاکستان میں کوالٹی مینجمنٹ کی اعلیٰ سطحی تعلیم کو متعارف کرانے کی ایک اہم پیش رفت تھی۔ اس پروگرام نے نہ صرف اکیڈمک سطح پر معیار کے تصور کو مضبوط کیا بلکہ صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان ایک مؤثر پل بھی قائم کیا، جس سے کوالٹی کلچر کے فروغ میں نمایاں مدد ملی
بطور وائس چانسلر ان کی کارکردگی خاص طور پر نمایاں رہی، جہاں انہوں نے تعلیمی معیار کی بہتری، تحقیق کے فروغ اور ادارہ جاتی نظم و ضبط میں اصلاحات متعارف کروائیں۔ پنجاب یونیورسٹی میں ان کے دور میں معیارِ تعلیم اور عالمی درجہ بندی میں بہتری دیکھی گئی، جبکہ قائداعظم یونیورسٹی میں انہوں نے تحقیقی ماحول کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کیے ان کی قیادت کا ایک اہم پہلو "Merit-based governance” یعنی میرٹ پر مبنی نظام کا فروغ ہے، جو پاکستان کے تعلیمی اداروں کے لیے ایک بنیادی ضرورت سمجھا جاتا ہے۔
تحقیقی میدان میں بھی ڈاکٹر نیاز احمد اختر کا کردار قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم میں کوالٹی ایشورنس کے موضوع پر چار کتابیں تصنیف و تالیف کیں اور متعدد تحقیقی جرائد میں مقالات شائع کیے۔ وہ Journal of Quality & Technology Management کے چیف ایڈیٹر بھی رہے، جس سے ان کی علمی گہرائی اور تحقیق سے وابستگی کا اندازہ ہوتا ہے پاکستان میں کوالٹی انہانسمنٹ سیلز (QEC) کے قیام اور فروغ میں بھی ان کا کردار اہم رہا، جو آج ہر یونیورسٹی کے نظام کا لازمی حصہ ہیں۔
ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں 2015 میں ستارہ امتیاز سے نوازا، جو ملک کا ایک اعلیٰ سول اعزاز ہے یہ اعزاز نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی بلکہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ان کی خدمات کا اعتراف بھی ہے۔
بطور چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ان کی تقرری ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ پاکستان اس وقت اعلیٰ تعلیم کے میدان میں کئی چیلنجز سے دوچار ہے، جن میں فنڈنگ، معیار، تحقیق کی کمی اور عالمی مسابقت شامل ہیں۔ ڈاکٹر نیاز احمد اختر کی قیادت سے یہ امید وابستہ کی جا رہی ہے کہ وہ اپنی سابقہ تجربات کی بنیاد پر نہ صرف تعلیمی معیار کو بہتر بنائیں گے بلکہ پاکستان کو عالمی علمی نقشے پر مزید نمایاں مقام دلائیں گے
میری رائے میں ڈاکٹر نیاز احمد اختر کی شخصیت پاکستان کے تعلیمی نظام کے لیے ایک "اصلاحی ماڈل” کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے نہ صرف تدریس اور تحقیق میں اپنا مقام بنایا بلکہ انتظامی سطح پر بھی ایک مضبوط اور وژنری قیادت فراہم کی۔ خصوصاً پنجاب یونیورسٹی میں کوالٹی مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے قیام اور MS in Total Quality Management جیسے پروگرامز کا آغاز اس بات کی دلیل ہیں کہ وہ محض پالیسی ساز نہیں بلکہ عملی اصلاحات نافذ کرنے والے رہنما بھی ہیں۔ تاہم، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ HEC جیسے ادارے کی کامیابی صرف ایک فرد پر منحصر نہیں بلکہ حکومتی پالیسی، مالی وسائل اور ادارہ جاتی خودمختاری بھی equally اہم عوامل ہیں۔ اگر ڈاکٹر نیاز احمد اختر کو مکمل اختیارات اور وسائل فراہم کیے جائیں تو وہ پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام میں حقیقی تبدیلی لا سکتے ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ڈاکٹر نیاز احمد اختر کا کیریئر نوجوانوں، اساتذہ اور پالیسی سازوں کے لیے ایک مثال ہے کہ کس طرح علم، محنت اور وژن کے ذریعے قومی سطح پر اثر ڈالا جا سکتا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں ایسے تعلیمی رہنماؤں کی اشد ضرورت ہے جو نہ صرف مسائل کو سمجھیں بلکہ ان کا عملی حل بھی پیش کریں۔

