لاہور: حکومتِ پنجاب اور تمام تعلیمی بورڈز نے طلبہ کے مستقبل کو محفوظ بنانے اور ان کے سروں سے امتحانی دباؤ کم کرنے کے لیے ایک "میگا ریلیف” کا اعلان کر دیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت اب طلبہ کو اپنا تعلیمی سال بچانے اور بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
نئی تعلیمی پالیسی کے مطابق، اب کوئی بھی طالب علم چار سال کے عرصے کے اندر چھ مرتبہ امتحانات میں شرکت کر سکے گا۔ اس تاریخی فیصلے کا اطلاق سالانہ امتحانات 2024 سے فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔ یہ سہولت میٹرک، انٹرمیڈیٹ (ایف اے، ایف ایس سی) کے ساتھ ساتھ او لیول اور اے لیول کے طلبہ کے لیے بھی یکساں طور پر دستیاب ہوگی۔
تعلیمی حکام کے مطابق، وہ طلبہ جو ان اضافی مواقعوں سے فائدہ اٹھانا چاہیں گے، انہیں درج ذیل قواعد پر عمل کرنا ہوگا:
اضافی کوششیں کرنے والے طلبہ کو اس وقت رائج تازہ ترین سلیبس (Current Syllabus) کے مطابق ہی پرچہ دینا ہوگا۔
اضافی مضامین: یہ پالیسی ان طلبہ پر بھی لاگو ہوگی جو امتحان پاس کرنے کے بعد کسی اضافی مضمون (Additional Subject) کا امتحان دینا چاہتے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد ان بچوں کو سہارا دینا ہے جو کسی وجہ سے پہلی یا دوسری کوشش میں کامیاب نہیں ہو پاتے یا اپنے نمبر بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ اس لچکدار پالیسی سے نہ صرف طلبہ کا قیمتی وقت بچے گا بلکہ ذہنی دباؤ اور خودکشی جیسے رحجانات کو روکنے میں بھی مدد ملے گی۔
اس فیصلے کو اساتذہ، والدین اور خاص طور پر طلبہ کی جانب سے ایک "بڑا تحفہ” قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اب ایک بار فیل ہونے کا مطلب تعلیم کا خاتمہ نہیں بلکہ بہتری کی نئی راہ ہوگی۔
طلبہ کی موجیں، بڑا فیصلہ: پنجاب میں امتحانی پالیسی میں انقلابی تبدیلی کردی گئی

